Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 53:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

وَٱلنَّجۡمِ إِذَا هَوَىٰ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا


English (Sahih International)

By the star when it descends


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1{ وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰی۔ } ”قسم ہے ستارے کی جبکہ وہ گرتا ہے۔“ ھَوٰی یَھْوِیْ ھَوِیًّا کا اصل معنی ہے اوپر سے نیچے گرنا۔ یہاں اس سے ستاروں کا افق سے غائب ہونا ‘ ڈوب جانا یا فنا ہوجانا مراد ہوسکتا ہے۔ اس پر قدرے تفصیلی بحث سورة الواقعہ میں ”مَوَاقِعِ النُّجُوْم“ کے ضمن میں آئے گی۔ الْھَوِیَّۃ گہرے کنویں کو اور ھَاوِیَۃ دوزخ کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ اسی مادہ سے ھَوِیَ یَھْوٰی ھَوًی کا معنی ہے خواہش کرنا۔ یہ لفظ الھَوٰی آگے آیت 3 میں آ رہا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 25.

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔

’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 53_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes