Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 90:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

لَآ أُقۡسِمُ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی


English (Sahih International)

I swear by this city, Makkah


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1{ لَآ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ۔ } ”نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔“ اس آیت میں بھی لَآ اُقْسِمُکا مفہوم بالکل وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورة القیامہ کی پہلی اور دوسری آیات یا سورة الانشقاق کی آیت 16 میں پڑھ چکے ہیں۔ یعنی ان آیات میں لَا نافیہ نہیں ہے بلکہ مخاطبین کے خیالاتِ باطلہ کے ابطال کے لیے ہے۔ چناچہ سورة القیامہ کی پہلی آیت { لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ } کا اگر ہم انگریزی ترجمہ کریں تو ہم کہیں گے : Nay , - swear by the Day of Judgement ! دراصل انگریزی میں تو Nay کے بعد کو ما , آجانے سے مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے ‘ لیکن عربی میں چونکہ ”کو ما“ وغیرہ کا استعمال نہیں ہوتا اس لیے سننے یا پڑھنے والا لَآ اُقْسِمُ کا مفہوم یوں بھی سمجھ سکتا ہے کہ ”میں قسم نہیں کھاتا“۔ بہرحال اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ جو کچھ تم لوگ کہہ رہے ہو وہ درست نہیں ‘ بلکہ میں اس شہر یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہوں کہ تمہارے خیالات و نظریات باطل ہیں۔ آگے چل کر واضح ہوجائے گا کہ یہاں مکہ مکرمہ کی قسم کیوں کھائی جا رہی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 20.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔

یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 90_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes