Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا هُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں
English (Sahih International)
But they who disbelieved in Our signs - those are the companions of the left
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 19{ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا } ”اور جنہوں نے انکار کیا ہماری آیات کا“ { ہُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ۔ } ”وہ ہوں گے بائیں والے۔“ یعنی ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں پکڑائے جائیں گے۔ لغوی اعتبار سے جس طرح یمن کے معنی خوش بختی کے ہیں اسی طرح الْمَشْئَمَۃ کے مادے میں بدبختی کے معنی پائے جاتے ہیں شومئی قسمت کی ترکیب اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لہٰذا اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہوگا کہ ”یہ بدبختی والے لوگ ہوں گے“۔ قرآن مجید میں آخرت کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے دائیں والے اصحاب المیمنہ یا اصحاب الیمین اور بائیں والے اصحاب المشئمہ یا اصحاب الشمال کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ البتہ سورة الواقعہ کی اس آیت میں نسل انسانی کے تین گروہوں کا تذکرہ بھی ہوا ہے : { وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً۔ } کہ اس دن تم لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو جائو گے۔ ان میں سے دو گروہ تو یہی دائیں اور بائیں والے بتائے گئے ہیں ‘ جبکہ تیسرے گروہ کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ - اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } الواقعۃ ”اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔ وہی تو بہت مقرب ہوں گے“۔ گویا یہ تیسرا گروہ اہل جنت میں سے بہت ہی خاص لوگوں یعنی مقربین بارگاہ پر مشتمل ہوگا۔ بہرحال آیت زیر مطالعہ میں ان بدقسمت لوگوں کا ذکر ہوا ہے جنہیں بائیں ہاتھ میں اعمال نامے پکڑا کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 90:1.