Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 83:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے


English (Sahih International)

Woe to those who give less [than due]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 1 to 5.

آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 36.

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔

جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 83_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes