Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 7:127 Prev 7:125


Arabic

وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَاۚ رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا وَتَوَفَّنَا مُسۡلِمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں


English (Sahih International)

And you do not resent us except because we believed in the signs of our Lord when they came to us. Our Lord, pour upon us patience and let us die as Muslims [in submission to You]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 126 وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلآَّ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَ تْنَا ط رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ یعنی ایمان کے راستے میں جو آزمائش آنے والی ہے اس کی سختیوں کو جھیلتے ہوئے کہیں دامن صبر ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ نہ جائے اور ہم کفر میں دوبارہ لوٹ نہ جائیں۔ اے اللہ ! ہمیں صبر اور استقامت عطا فرما ‘ اور اگر ہمیں موت آئے تو تیری اطاعت اور فرمانبرداری کی حالت میں آئے۔ اس واقعے کے بعد بھی فرعون عملی طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہ کرسکا۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اب بھی شہر میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا نے اور بنی اسرائیل کو منظم کرنے میں مصروف رہے۔ قوم کے نوجوانوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہا اور وہ آپ علیہ السلام کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئے۔ آپ علیہ السلام کی اس طرح کی سرگرمیوں سے حکومتی عہدیداروں کے اندربجا طور پر تشویش پیدا ہوئی اور بالآخر انہوں نے فرعون سے اس بارے میں شکایت کی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 7:123.


Connections

  • Previous: 7_125
  • Next: 7_127
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes