Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوۡمَهُۥ لِيُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡ وَإِنَّا فَوۡقَهُمۡ قَٰهِرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا “کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟” فرعون نے جواب دیا “میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے
English (Sahih International)
And the eminent among the people of Pharaoh said,” Will you leave Moses and his people to cause corruption in the land and abandon you and your gods?” [Pharaoh] said, “We will kill their sons and keep their women alive; and indeed, we are subjugators over them
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 127 وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِہَتَکَ ط جس نئے نظریے کا پرچار وہ کر رہے ہیں اگر وہ لوگوں میں مقبول ہوتا گیا اور اس نظریے پر لوگ اکٹھے اور منظم ہوگئے تو ہمارے خلاف بغاوت پھوٹ پڑے گی۔ اس طرح ملک میں فساد پھیلنے کا سخت اندیشہ ہے۔یہاں پہ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قوم فرعون کے معبود بھی تھے۔ ان کا سب سے بڑا الٰہ تو سورج تھا۔ لہٰذا معاملہ یہ نہیں تھا کہ وہ خدا صرف فرعون کو مانتے تھے۔ فرعون کی خدائی سیاسی تھی ‘ اس کا دعویٰ تھا کہ حکومت میری ہے ‘ اقتدارو اختیار sovereignty کا مالک میں ہوں۔ نمرود کی خدائی کا دعویٰ بھی اسی طرح کا تھا۔ باقی پوجا پاٹ کے لیے کچھ معبود فرعون اور اس کی قوم نے بھی بنا رکھے تھے جن کے چھوٹ جانے کا انہیں خدشہ تھا۔ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَ ہُمْ وَنَسْتَحْیٖ نِسَآءَ ہُمْ ج یہ آزمائش ان پر ایک دفعہ پہلے بھی آچکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے قبل جو فرعون برسر اقتدار تھا اس نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر میں اس کے نجومیوں نے اسے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچے کی پیدائش ہونے والی ہے جو بڑا ہو کر آپ کی حکومت ختم کر دے گا۔ چناچہ اس خدشے کے پیش نظر فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جائے اور صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ تقریباً چالیس ‘ پینتالیس سال بعد اب پھر یہ مرحلہ آگیا کہ جب موجودہ فرعون کے سرداروں نے اس کی توجہ اس طرف دلائی کہ جسے تم مشت غبار سمجھ رہے ہو وہ بڑھتے بڑھتے اگر طوفان بن گیا تو پھر کیا کرو گے ؟ اگر اس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تمہارے خلاف ایک تحریک کی شکل میں منظم کرلیا تو پھر ان کو دبانا مشکل ہوجائے گا۔ لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ nip the evil in the bud کے اصول کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا جائے ‘ لیکن فرعون کے دل میں اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے محبت ڈالی ہوئی تھی۔ کیونکہ یہ وہی فرعون تھا جس کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کا سا رشتہ تھا ‘ جس کی وجہ سے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کے لیے طبعی محبت ابھی بھی موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کے بارے میں نہیں سوچا ‘ بلکہ اس کے بجائے اس نے بنی اسرائیل کو دبانے کے لیے پھر سے اپنے باپ کا پرانا حکم نافذ کرانے کا عندیہ دے دیا کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرتے رہیں گے تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم سے اجتماعی افرادی قوت مہّیا نہ ہو سکے۔وَاِنَّا فَوْقَہُمْ قٰہِرُوْنَ ۔ گویا اب درباریوں اور امراء کا حوصلہ بڑھانے کے انداز میں کہا جا رہا ہے کہ تم کیوں گھبراتے ہو ‘ ہم پوری طرح ان پر چھائے ہوئے ہیں ‘ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 127 to 129.
بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔
پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔
پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔
خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔