Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأَنَّهُۥٓ أَهۡلَكَ عَادًا ٱلۡأُولَىٰ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور یہ کہ اُسی نے عاد اولیٰ کو ہلاک کیا
English (Sahih International)
And that He destroyed the first [people of] ‘Aad
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 50{ وَاَنَّہٓٗ اَہْلَکَ عَادَا نِ الْاُوْلٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا تھا عاد اولیٰ کو۔“ ”عادِ اولیٰ“ سے مراد قدیم قوم عاد ہے ‘ جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام مبعوث کیے گئے۔ یہ قوم احقاف کے علاقے میں آباد ہوئی۔ اس قوم پر جب عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو حضرت ہود علیہ السلام اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ہمراہ اس علاقے سے ہجرت کر گئے۔ ان لوگوں کی نسل سے جو قوم وجود میں آئی وہ ”ثمود“ کہلائی۔ لیکن وہ لوگ چونکہ قوم عاد ہی کی نسل سے تھے اس لیے انہیں ”عادِ ثانیہ“ بھی کہا جاتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 50 to 55.
ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔