Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلذَّـٰرِيَٰتِ ذَرۡوٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
قسم ہے اُن ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیں
English (Sahih International)
By those [winds] scattering [dust] dispersing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا۔ } ”قسم ہے ان ہوائوں کی جو بکھیرنے والی ہیں جیسے کہ بکھیرا جاتا ہے۔“ ہوائیـں بہت سی چیزوں کو بکھیرتی ہیں۔ مثلاً پودوں کے پھولوں کے زردانے pollens ہوائوں کی مدد سے ایک پودے سے دوسرے تک پہنچ کر اسے بارور کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے درختوں کے بیج ہوائوں کے دوش پر سفر کرتے ہوئے دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یوں ہوائیں پودوں کے پھلنے پھولنے اور جنگلات کے بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 9.
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 51_2
- Thematic: (add links here)