Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡتُلُواْ ٱلصَّيۡدَ وَأَنتُمۡ حُرُمٞۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآءٞ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحۡكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدۡلٖ مِّنكُمۡ هَدۡيَۢا بَٰلِغَ ٱلۡكَعۡبَةِ أَوۡ كَفَّـٰرَةٞ طَعَامُ مَسَٰكِينَ أَوۡ عَدۡلُ ذَٰلِكَ صِيَامٗا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمۡرِهِۦۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَۚ وَمَنۡ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنۡهُۚ وَٱللَّهُ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٍ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اِس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یااس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے پہلے جو ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے
English (Sahih International)
O you who have believed, do not kill game while you are in the state of ihram. And whoever of you kills it intentionally - the penalty is an equivalent from sacrificial animals to what he killed, as judged by two just men among you as an offering [to Allah] delivered to the Ka’bah, or an expiation: the feeding of needy people or the equivalent of that in fasting, that he may taste the consequence of his deed. Allah has pardoned what is past; but whoever returns [to violation], then Allah will take retribution from him. And Allah is Exalted in Might and Owner of Retribution
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 95 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ کفارے کے طور پر اللہ کی راہ میں ویسا ہی ایک چوپایہ صدقہ کیا جائے گا۔ یعنی اگر آپ نے ہرن مارا تو بکری یا بھیڑ دی جائے گی اور اگر نیل گائے مار دی تو پھر گائے بطور کفارہ دینا ہوگی۔ اس طرح جس قسم اور جس جسامت کا حیوان شکار کیا گیا ہے ‘ اس کے برابر کا چوپایہ صدقہ کرنا ہوگا۔یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ یعنی دو متقی اور معتبر اشخاص اس کی گواہی دیں کہ یہ جانور اس شکار کیے جانے والے جانور کے برابر ہے۔ہَدْیًام بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ یہ جانور ہدی کے طور پر خانہ کعبہ کی نذر کیا جائے گا۔ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اس میں فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر اناج یا رقم دینا ہو تو وہ صدقۂ فطر کے حساب سے ہوگی۔ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا یا اتنے ہی روزے رکھنا یہ دیکھنا ہوگا کہ جو جانورشکار ہوا ہے اسے کتنے آدمی کھا سکتے تھے۔ اتنے آدمیوں کو کھانا کھلایا جائے یا اتنے دن کے روزے رکھے جائیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 5:94.