Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 5:95 Prev 5:93


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَيَبۡلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَيۡءٖ مِّنَ ٱلصَّيۡدِ تَنَالُهُۥٓ أَيۡدِيكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ لِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اُس کے لیے درد ناک سزا ہے


English (Sahih International)

O you who have believed, Allah will surely test you through something of the game that your hands and spears [can] reach, that Allah may make evident those who fear Him unseen. And whoever transgresses after that - for him is a painful punishment


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اس سورة مبارکہ کے شروع میں حالت احرام میں شکار کرنے کی ممانعت آچکی ہے۔ اب اللہ کی اس سنت کا ذکر ہے کہ اللہ اپنے ماننے والوں کو آزماتا ہے ‘ سخت ترین امتحان لیتا ہے۔ فرض کیجیے کہ حاجیوں کا ایک قافلہ جا رہا ہے ‘ سب نے احرام باندھا ہوا ہے ‘ اتفاق سے ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں۔ اب ایک ہرن اٹھکیلیاں کرتے ہوئے قریب آ رہا ہے ‘ بھوک بھی ستا رہی ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘ چاہیں تو ذرا سا نیزہ ماریں اور شکار کرلیں یا ویسے ہی بھاگ کر پکڑ لیں ‘ لیکن پکڑ نہیں سکتے ‘ شکار نہیں کرسکتے ‘ کیونکہ احرام میں ہیں اور اس حالت میں اجازت نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح آزماتا ہے۔آیت 94 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُہٗٓ اَیْدِیْکُمْ وَرِمَاحُکُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّخَافُہٗ بالْغَیْب ِج شکار پہنچ میں بھی ہے ‘ ان کے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘ چاہیں تو شکار کرلیں ‘ لیکن مجبور ہیں ‘ کیونکہ احرام باندھا ہوا ہے۔ تو جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ اپنی بھوک کو برداشت کرے گا ‘ اللہ کے حکم کو نہیں توڑے گا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 94 and 95.

حج یا عمرہ کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جاسکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیاگیا ہے۔ آدمی خواہ خود شکار کرے یا کسی دوسرے کو شكار کرنے میں مدد دے، دونوں چیزیں احرام کی حالت میں ناجائز ہیں۔ روایات کے مطابق یہ آیت حدیبیہ کے سفر میں اتری جب کہ مسلمانوں نے عمرہ کے ارادہ سے احرام باندھ رکھا تھا۔ اس وقت چڑیاں اور جانور کثیر تعداد میں اتنے قریب پھر رہے تھے کہ بآسانی انھیں تیر یا نیزے سے مارا جاسکتا تھا۔ مسلمان اس وقت اپنی عادت اور ضرورت کے تحت چاہتے بھی تھے کہ ان کا شکار کریں۔ مگر حکم اترتے ہی ہر ایک نے اپنا ہاتھ روک لیا — یہ حکم جو احرام کی حالت میںجانوروں کے بارے میں دیاگیا ہے وہی روز مرہ کی زندگی میں عام انسانوں کے ساتھ مطلوب ہے۔

اس حکم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ’’اللہ جان لے کہ کون ہے جو اللہ کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے‘‘۔ دنیا میں انسان کو رکھ کر خدا اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں کون اتنا حقیقت شناس ہے کہ بظاہر خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کو اس کی تمام طاقتوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کون اتنا غافل ہے کہ خدا کو اپنے سامنے نہ پاکر بے خوف ہوجاتا ہے اور مَن مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کا تجربہ حج کے سفر میں چند دن اور انسانی تعلقات میں روزانہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی زد میں اس طرح آتا ہے کہ اس کے لیے بالکل ممكن ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی جان پر حملہ کرے۔ وہ اس کو مالی نقصان پہنچائے۔ وہ اس کے بارے میں ایسی بات کہے جس سے اس کی رسوائی ہوتی ہو۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس طرح قابو پانے کے باوجود خدا کے ڈر سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کواس کے معاملہ میں روک لیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی پر قابو پاتے ہی اس کو ذلیل کرتاہے اور اس کو اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے پہلے شخص نے یہ ثابت کیا کہ وہ دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے اور دوسرے نے اپنے بارے میں برعکس حالت کا ثبوت دیا۔ پہلے کے لیے خدا کے یہاں بے حساب انعامات ہیں اور دوسرے کے لیے دردناک عذاب۔


Connections

  • Previous: 5_93
  • Next: 5_95
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes