Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 5:97 Prev 5:95


Arabic

أُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَحۡرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِۖ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمٗاۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا، جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زاد راہ بھی بناسکتے ہو البتہ خشکی کا شکار جب تک احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے پس بچو اُس خدا کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا


English (Sahih International)

Lawful to you is game from the sea and its food as provision for you and the travelers, but forbidden to you is game from the land as long as you are in the state of ihram. And fear Allah to whom you will be gathered


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 96 اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ سمندر اور دریا کا شکار حالت احرام میں بھی حلال ہے۔ حاجی لوگ اگر کشتیوں اور بحری جہازوں کے ذریعے سے سفر کر رہے ہوں تو وہ احرام کی حالت میں بھی مچھلی وغیرہ کا شکار کرسکتے ہیں۔ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ج سمندر کی خوراک sea food تو یوں سمجھ لیجیے کہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے غذا کا ایک نیا خزانہ ہے جو سامنے آیا ہے۔ یہ بہت سی خرابیوں اور بیماریوں سے بچانے والی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں یہ آج کل بہت مقبول ہو رہی ہے۔وَحُرِّم عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ تم سب اس کی طرف گھیراؤ کر کے لے جائے جاؤ گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 96 to 100.

حالتِ احرام میں شکار حرام ہے مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کررہے ہوں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ پاني میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ محض ’’آزمائش‘‘ کے لیے تھی۔ انسان کو آزمانے کے لیے اللہ نے علامتی طورپر کچھ چیزیں مقرر کردیں۔ اس لیے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لیے تھی وہ بندوں کے لیے غیرضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کردی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زادِ راہ نہ رہے تو آدمی کے لیے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔

کعبہ اسلام اور ملّت اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شر ط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع گاہ بنا دیا۔ زیارتِ کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر كيے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتاہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتاہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتاہے ، وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔

انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری سازوسامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک ساری اہمیت صرف کیفیت کی ہے۔ مقداركي اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو لوگ ’’کثرت‘‘ کی طرف دوڑیں اور ’’قلت‘‘ کو نظر انداز کردیں، وہ اپنے خیال سے بڑی ہوشیاری کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ انتہائی نادان ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو خدا کے ڈر کے تحت اپنا رویہ متعین کرے، نہ کہ مادی مصالح یا دنیوی اندیشوں کے تحت۔


Connections

  • Previous: 5_95
  • Next: 5_97
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes