Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلِكُلّٖ جَعَلۡنَا مَوَٰلِيَ مِمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ فَـَٔاتُوهُمۡ نَصِيبَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے
English (Sahih International)
And for all, We have made heirs to what is left by parents and relatives. And to those whom your oaths have bound [to you] - give them their share. Indeed Allah is ever, over all things, a Witness
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 33 وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ط۔قانون وراثت کی اہمیت کو دیکھئے کہ اب آخر میں ایک مرتبہ پھر اس کا ذکر فرمایا۔ وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْہُمْ نَصِیْبَہُمْ ط۔ ایک نیا مسئلہ یہ پیدا ہوگیا تھا کہ جن لوگوں کے ساتھ دوستی اور بھائی چارہ ہے یا مواخات کا رشتہ ہے مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنا دیا تھا تو کیا ان کا وراثت میں بھی حصہ ہے ؟ اس آیت میں فرمایا گیا کہ وراثت تو اسی قاعدہ کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہونی چاہیے جو ہم نے مقرر کردیا ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ تمہارے دوستی اور بھائی چارے کے عہد و پیمان ہیں ‘ یا جو منہ بولے بھائی یا بیٹے ہیں ان کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ البتہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ جو بھلائی کرنا چاہو کرسکتے ہو ‘ انہیں جو کچھ دینا چاہو دے سکتے ہو ‘ اپنی وراثت میں سے بھی کچھ وصیت کرنا چاہو تو کرسکتے ہو۔ لیکن جو قانون وراثت طے ہوگیا ہے اس میں کسی ترمیم و تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ وراثت میں حق دار کوئی اور نہیں ہوگا سوائے اس کے جس کو اللہ نے مقرر کردیا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدًا ۔اب آرہی ہے اصل میں وہ کانٹے دار آیت جو عورتوں کے حلق سے بہت مشکل سے اترتی ہے ‘ کانٹا بن کر اٹک جاتی ہے۔ اب تک اس ضمن میں جو باتیں آئیں وہ دراصل اس کی تمہید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پہلی تمہید سورة البقرۃ میں آچکی ہے : وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بالْمَعْرُوْفِص وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ ط آیت 228 اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق ‘ البتہ مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے“۔ یہ کہہ کر بات چھوڑ دی گئی۔ اس کے بعد ابھی ہم نے پڑھا : وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط یہ ہدایت عورتوں کے لیے مزید ذہنی تیاری کی غرض سے دی گئی۔ اور اب دو ٹوک انداز میں ارشاد ہو رہا ہے :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 4:29.