Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے
English (Sahih International)
O you who have believed, do not consume one another’s wealth unjustly but only [in lawful] business by mutual consent. And do not kill yourselves [or one another]. Indeed, Allah is to you ever Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 29 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف تجارت اور لین دین کی بنیاد جب حقیقی باہمی رضامندی پر ہو تو اس سے حاصل ہونے والا منافع جائز اور حلال ہے۔ فرض کیجیے کہ آپ کی جوتوں کی دکان ہے۔ آپ نے گاہک کو ایک جوتا دکھایا اور اس کے دام دو سو روپے بتائے۔ اس نے جوتا پسند کیا اور دو سو روپے میں خرید لیا۔ یہ باہمی رضامندی سے سودا ہے جو سیدھے سادھے اور صحیح طریقے پر ہوگیا۔ ظاہر بات ہے کہ اس میں سے کچھ نہ کچھ نفع تو آپ نے کمایا ہے۔ آپ نے اس کے لیے محنت کی ہے ‘ کہیں سے خرید کر لائے ہیں ‘ اسے سٹور میں محفوظ کیا ہے ‘ دکان کا کرایہ دیا ہے ‘ لہٰذا یہ منافع آپ کا حق ہے اور گاہک کو اس میں تأمل نہیں ہوگا۔ لیکن اگر آپ نے یہی جوتا جھوٹ بول کر یا جھوٹی قسم کھا کر فروخت کیا کہ میں نے تو خود اتنے کا لیا ہے تو اس طرح آپ نے اپنی ساری محنت بھی ضائع کی اور آپ نے حرام کما لیا۔ اسی طرح معاملت اور لین دین کے وہ تمام طریقے جن کی بنیاد جھوٹ اور دھوکہ دہی پر ہونا جائز اور حرام ہیں۔ وَلاَ تَقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ ط ۔یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ تمدن کی بنیاد دو چیزوں پر ہے ‘ احترام جان اور احترام مال۔ میرے لیے آپ کا مال اور آپ کی جان محترم ہے ‘ میں اسے کوئی گزند نہ پہنچاؤں ‘ اور آپ کے لیے میرا مال اور میری جان محترم ہے ‘ اسے آپ گزند نہ پہنچائیں۔ اگر ہمارے مابین یہ شریفانہ معاہدہ Gentlemans agreement قائم رہے تب تو ہم ایک معاشرے اور ایک ملک میں رہ سکتے ہیں ‘ جہاں اطمینان ‘ امن و سکون اور چین ہوگا۔ اور جہاں یہ دونوں احترام ختم ہوگئے ‘ جان کا اور مال کا ‘ تو ظاہر بات ہے کہ پھر وہاں امن و سکون ‘ چین اور اطمینان کہاں سے آئے گا ؟ اس آیت میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے اور قتل نفس دونوں کو حرام قرار دے کر ان دونوں حرمتوں کو ایک ساتھ جمع کردیا گیا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 29 to 33.
ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔
دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔