Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
هَٰذَاۚ وَإِنَّ لِلطَّـٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ تو ہے متقیوں کا انجام اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے
English (Sahih International)
This [is so]. But indeed, for the transgressors is an evil place of return
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 55 { ہٰذَا ط وَاِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ } ”متقین کے لیے تو یہ ہے ! اور یقینا سرکشوں کے لیے لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 55 to 64.
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔