Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 34:52 Prev 34:50


Arabic

وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ فَزِعُواْ فَلَا فَوۡتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کاش تم دیکھو اِنہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے


English (Sahih International)

And if you could see when they are terrified but there is no escape, and they will be seized from a place nearby


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 51 { وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ } ”اور کاش آپ دیکھیں جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے ‘ تب بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا“ انسانوں کی گھبراہٹ اور پریشانی کی اس کیفیت کو سورة الانبیاء کی آیت 103 میں ”الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کیفیت قیامت کے اس ”زلزلے“ کے باعث ہوگی جس کا ذکر سورة الحج کی ابتدائی آیت میں اس طرح ہوا ہے : { اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ۔ ”یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا۔“ { وَاُخِذُوْا مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ } ”اور وہ پکڑ لیے جائیں گے قریبی جگہ سے۔“ جیسے کوئی پاس پڑی ہوئی چیز کو ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتا ہے اسی طرح انہیں آسانی کے ساتھ قابو میں کر لیاجائے گا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 51 to 54.

فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔


Connections

  • Previous: 34_50
  • Next: 34_52
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes