Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُلۡ إِن ضَلَلۡتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفۡسِيۖ وَإِنِ ٱهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوحِيٓ إِلَيَّ رَبِّيٓۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٞ قَرِيبٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کہو “اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے
English (Sahih International)
Say, “If I should err, I would only err against myself. But if I am guided, it is by what my Lord reveals to me. Indeed, He is Hearing and near
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 50 { قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ } ”آپ ﷺ ان سے یہ بھی کہیے کہ اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میرے اوپر ہی آئے گا۔“ { وَاِنِ اہْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْٓ اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ } ”اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کے طفیل ہے جو میرا رب میری طرف کرتا ہے۔ یقینا وہ خوب سننے والا ‘ بہت قریب ہے۔“ یہ انتہائی متواضع اندازِ بیان ہے کہ اگر بالفرض میں بہک گیا ہوں تو یہ میرے نفس کی شرارت کے باعث ہے اور اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا۔ اور اگر میں سیدھے راستے پر ہوں تو یقینا میرے رب کی راہنمائی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے۔ میں اپنی محنت اور کوشش سے ہدایت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 34:48.