Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Prev 34:53


Arabic

وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكّٖ مُّرِيبِۭ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اُس وقت جس چیز کی یہ تمنا کر رہے ہوں گے اس سے محروم کر دیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش رو ہم مشرب محروم ہو چکے ہوں گے یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے


English (Sahih International)

And prevention will be placed between them and what they desire, as was done with their kind before. Indeed, they were in disquieting denial


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 54 { وَحِیْلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُوْنَ } ”اور آڑ کردی جائے گی ان کے اور ان کی من پسند چیزوں کے مابین“ مَا یَشْتَہُوْنَ سے مرادجنت اور جنت کی نعمتیں ہیں۔ سورة قٓ‘ آیت 35 میں اہل جنت کے لیے ان نعمتوں کا ذکر یوں آیا ہے : { لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا } ”ان کے لیے اس میں ہوگا جو وہ چاہیں گے“۔ یعنی جو جو چیزیں انسان کو مرغوب ہوتی ہیں وہ اہل جنت کو جنت میں فراہم کی جائیں گی۔ جیسا کہ سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیت 31 میں فرمایا گیا : { وَلَـکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ } ”اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہوگا جس کی خواہش تمہارے جی کریں گے“۔ جبکہ مجرموں کو اس دن ان نعمتوں سے محروم کردیا جائے گا۔ { کَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِہِمْ مِّنْ قَبْلُ } ”جیسا کہ اس سے پہلے ان جیساطرز عمل اختیار کرنے والے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔“ { اِنَّہُمْ کَانُوْا فِیْ شَکٍّ مُّرِیْبٍ } ”وہ لوگ بھی ایسے ہی اضطراب والے شک میں پڑے رہے تھے۔“ ان لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں شکوک و شبہات جنم لیتے رہے اور اسی طرح انہیں بھی حق کی تصدیق کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 34:51.


Connections

  • Previous: 34_53
  • Next: (End of Surah)
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes