Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ ذَٰلِكَ بَيۡنِي وَبَيۡنَكَۖ أَيَّمَا ٱلۡأَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَٰنَ عَلَيَّۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
موسیٰ نے جواب دیا “یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے
English (Sahih International)
[Moses] said, “That is [established] between me and you. Whichever of the two terms I complete - there is no injustice to me, and Allah, over what we say, is Witness
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ ط ”یعنی آپ کا مطالبہ مجھ سے آٹھ سال کا ہی ہوگا۔ اگر میں دس سال پورے کر دوں تو یہ میرا اختیار ہوگا ‘ آپ مجھے اس پر مجبور نہیں کریں گے۔وَاللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ ”یعنی ہمارے اس قول وقرار اور معاہدے کا گواہ اور ضامن اللہ تعالیٰ ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 28:25.