Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 28:26 Prev 28:24


Arabic

فَجَآءَتۡهُ إِحۡدَىٰهُمَا تَمۡشِي عَلَى ٱسۡتِحۡيَآءٖ قَالَتۡ إِنَّ أَبِي يَدۡعُوكَ لِيَجۡزِيَكَ أَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَاۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيۡهِ ٱلۡقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفۡۖ نَجَوۡتَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں” موسیٰؑ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا “کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالموں سے بچ نکلے ہو


English (Sahih International)

Then one of the two women came to him walking with shyness. She said, “Indeed, my father invites you that he may reward you for having watered for us.” So when he came to him and related to him the story, he said, “Fear not. You have escaped from the wrongdoing people


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا ط ”یعنی آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے جو مشقت اٹھائی ‘ ہمارے والد آپ کو اس کا کچھ اجر دینا چاہتے ہیں۔فَلَمَّا جَآءَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَلا ”اس آیت میں لفظ ”القَصَص“ آیا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورة کا نام القَصَصہے۔قَالَ لَا تَخَفْقف نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ”یعنی آپ علیہ السلام کے ان دشمنوں کی اس علاقے تک رسائی نہیں۔ یہاں آپ کو کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف نہیں ہوگی۔ آپ یہاں آرام سے رہ سکتے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جس شخصیت کا ذکر ہے وہ حضرت شعیب علیہ السلام تھے ‘ اس لیے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے مدین میں مبعوث ہونے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ چناچہ علامہ اقبال نے بھی اس شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے : اگر کوئی شعیب علیہ السلام آئے میسر شبانی سے کلیمی دو قدم ہے !یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام آٹھ یا دس سال تک چرواہے کی حیثیت سے حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہے اور یہ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ علیہ السلام چرواہے سے کلیم اللہ بن گئے۔ اس مفروضہ کو اگر حقائق و واقعات کی روشنی میں پرکھا جائے تو یہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول علیہ السلام تھے۔ اور کوئی بھی رسول علیہ السلام جب کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اس کی بعثت یا رسالت دو ادوار پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک دعوت کا دور اور دوسرا نزول عذاب کے بعد کا دور۔ اب اگر یہ فرض کیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات آپ علیہ السلام کے زمانۂ دعوت میں ہوئی تھی یعنی اس وقت تک ابھی اہل مدین آپ علیہ السلام کی تکذیب کر کے عذاب کے مستحق نہیں ہوئے تھے تو اس واقعہ کا رنگ بالکل ہی مختلف ہونا چاہیے تھا اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں مدین پہنچے تھے جب اہل مدین پر عذاب آچکا تھا اور حضرت شعیب علیہ السلام اس وقت عذاب سے محفوظ رہ جانے والے مؤمنین کے ساتھ رہ رہے تھے تو ایسی صورت میں یہ ہرگز ممکن نہ تھا کہ اللہ کے رسول کی بیٹیاں یوں پریشان حال جنگل میں بکریاں چراتی پھرتیں اور امت میں سے کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوتا۔ بہر حال واقعہ کا انداز خود بتارہا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات جس شخصیت سے ہوئی تھی وہ حضرت شعیب علیہ السلام نہیں تھے ‘ بلکہ حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ بچ جانے والے مؤمنین کی نسل میں سے کوئی نیک سیرت بزرگ تھے۔ اب یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے کہ یہ واقعہ حضرت شعیب علیہ السلام کے کتنے عرصے بعد کا ہے ‘ بہرحال اس وقت تک حضرت شعیب علیہ السلام کی تعلیمات کے کچھ نہ کچھ اثرات معاشرے کے اندر موجود تھے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 25 to 28.

لڑکیاں اس دن معمول سے کچھ پہلے گھر پہنچ گئیں والد نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج ایک مسافر نے ہماری بکریوں کو پہلے ہی پانی پلا دیا۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ پھر تم اس مسافر کو گھر کیوں نہ لائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ چنانچہ ایک لڑکی دوبارہ کنویں پر گئی اور حضرت موسیٰ کوبلا کر لے آئی۔

چند دن کے تجربے نے بتایا کہ حضرت موسیٰ محنتی بھی ہیں اور امانت دار بھی۔ چنانچہ مذکورہ بزرگ نے اپنی بیٹی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو اپنے یہاں مستقل خدمت کے ليے رکھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات، امانت اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے ليے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دولفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔بعد کو مذکورہ بزرگ نے اپنی ایک لڑکی کی شادی بھی حضرت موسیٰ سے کردی۔ تاہم چوں کہ اس وقت انھیں اپنے گھر اور جائداد کی دیکھ بھال کے ليے ایک مرد کی شدید ضرورت تھی، انھوں نے حضرت موسیٰ کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ آٹھ سال یادس سال تک ان کے یہاں قیام کریں۔ اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔


Connections

  • Previous: 28_24
  • Next: 28_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes