Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ إِنِّيٓ أُرِيدُ أَنۡ أُنكِحَكَ إِحۡدَى ٱبۡنَتَيَّ هَٰتَيۡنِ عَلَىٰٓ أَن تَأۡجُرَنِي ثَمَٰنِيَ حِجَجٖۖ فَإِنۡ أَتۡمَمۡتَ عَشۡرٗا فَمِنۡ عِندِكَۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أَشُقَّ عَلَيۡكَۚ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے) کہا “میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا تم اِن شاءاللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے
English (Sahih International)
He said, “Indeed, I wish to wed you one of these, my two daughters, on [the condition] that you serve me for eight years; but if you complete ten, it will be [as a favor] from you. And I do not wish to put you in difficulty. You will find me, if Allah wills, from among the righteous
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 27 قَالَ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیْنِ ”چنانچہ شیخ مدین اپنی بیٹی کے مشورے کی روشنی میں جو ارادہ کرچکے تھے اس بارے میں انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اعتماد میں لینا چاہا کہ وہ اپنی ایک بیٹی ان کے نکاح میں دینا چاہتے ہیں۔عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ج ”ممکن ہے اس وقت اس علاقے میں نکاح کے بدلے لڑکے سے معاوضہ لینے کا رواج ہو۔ بہر حال شیخ مدین نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اگر وہ آٹھ سال تک ان کی خدمت کریں ‘ ان کی بھیڑ بکریاں چرائیں اور گھر کے دوسرے کام کاج کریں تو اس کے بدلے میں وہ اپنی ایک بیٹی ان کے نکاح میں دے دیں گے۔فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ ج ”یعنی اگر تم آٹھ سال کے بجائے دس سال پورے کر دو یہ تمہاری طرف سے ایک طرح کا احسان ہوگا۔وَمَآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ ط ”یعنی تمہیں اطمینان ہونا چاہیے کہ اس دوران میری طرف سے تم پر کوئی بےجا سختی نہیں کی جائے گی اور بہت بھاری کام کے باعث کسی بےجا مشقت میں نہیں ڈالا جائے گا۔سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ”معاملات کے سلسلے میں ان شاء اللہ تم مجھے ایک راست باز اور کھرا آدمی پاؤ گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 28:25.