Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 22:32 Prev 22:30


Arabic

حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِينَ بِهِۦۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ ٱلطَّيۡرُ أَوۡ تَهۡوِي بِهِ ٱلرِّيحُ فِي مَكَانٖ سَحِيقٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یکسُو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے


English (Sahih International)

Inclining [only] to Allah, not associating [anything] with Him. And he who associates with Allah - it is as though he had fallen from the sky and was snatched by the birds or the wind carried him down into a remote place


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 31 حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط ”اللہ کی بندگی میں کسی اعتبار اور کسی پہلو سے شرک کا شائبہ تک نہ آنے پائے۔ نہ ذات میں ‘ نہ صفات میں ‘ نہ حقوق میں ‘ نہ اختیارات میں۔وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ”شرک کرنے والے انسان کی مثال ایسے ہے جیسے وہ کسی بلندی پر رسّی کی مدد سے لٹکا ہوا تھا تو اس کی رسّی کٹ گئی اور وہ یکدم تیزی سے نیچے آ رہا ہے۔ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ”تو ایسے شخص کی اب کیفیت یہ ہے یا تو وہ باز اور عقاب جیسے شکاری پرندوں کے رحم و کرم پر ہوگا یا پھر تیز ہوا کا کوئی جھونکا اسے کسی کھائی میں پٹخ دے گا۔ مشرک کا ایسا انجام اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ کا دامن چھوڑ کر وہ بےسہارا ہوجاتا ہے ‘ جبکہ توحید پرست شخص ایک مضبوط سہارے پر قائم ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیت 27 میں فرمایا گیا ہے : یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِج ”ثابت قدم رکھتا ہے اللہ اہل ایمان کو قول ثابت کلمۂ توحید کے ساتھ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

اس کائنات میں مرکزی قوت صرف ایک ہے۔ اور وہ خدائے واحد کی ذات ہے۔ جو شخص اپنے آپ کوخدا سے جوڑے اس نے اپنے ليے حقیقی ٹھکانا پالیا۔ وہ مضبوط زمین پر کھڑا ہوگیا۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنے آپ کو خدا سے نہ جوڑے یا ایسا ہو کہ وہ زبان سے خدا کا اقرار کرے مگر اپنا دلی تعلق کسی اور سے وابستہ رکھے۔ وہ گویا اس مرکز سے کٹا ہوا ہے جس کے سوا اس کائنات میں دوسرا کوئی مرکز نہیں۔ ایسے شخص کا حال اس انسان جیسا ہوگا جس کی ایک مثال اوپر کی آیت میں بتائی گئی ہے۔


Connections

  • Previous: 22_30
  • Next: 22_32
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes