Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ حُرُمَٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦۗ وَأُحِلَّتۡ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡۖ فَٱجۡتَنِبُواْ ٱلرِّجۡسَ مِنَ ٱلۡأَوۡثَٰنِ وَٱجۡتَنِبُواْ قَوۡلَ ٱلزُّورِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ما سوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں پس بتوں کی گندگی سے بچو، جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو
English (Sahih International)
That [has been commanded], and whoever honors the sacred ordinances of Allah - it is best for him in the sight of his Lord. And permitted to you are the grazing livestock, except what is recited to you. So avoid the uncleanliness of idols and avoid false statement
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 30 ذٰلِکَق وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَہُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط ”اللہ نے جس جس چیز کو محترم ٹھہرایا ہے وہ سب ”حرمات اللہ“ ہیں۔ اس میں خود بیت اللہ اور حرمت والے مہینے بھی شامل ہیں۔ پھر جیسا کہ سورة المائدۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ قربانی کے جانور جن کی گردنوں میں قلادے ڈالے گئے ہوں وہ بھی اور خود عازمینِ حج اآمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ آیت 2 بھی محترم ہیں۔ یہ سب حرمات اللہ ہیں اور ان سب کی تعظیم لازمی ہے۔وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ ”یعنی خنزیر کے بارے میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ وہ حرام ہے۔ باقی بکری ‘ بھیڑ ‘ گائے ‘ اونٹ وغیرہ کی قربانی دی جاسکتی ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ”یعنی شرک سے بچنا تمہاری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ مکہ میں اس وقت بت پرستی عام تھی جو شرک کی بد ترین شکل ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے، کیا چیز مقدس ہے اور کیا چیز غیر مقدس، عبادت کے کون سے طریقے درست ہیں اور کون سے طریقے درست نہیں۔ یہ سب باتیں خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے واضح طورپر بتادی ہیں۔ ان میں کسی قسم کا تغیر وتبدل جائز نہیں۔ ہر تبدیلی جو بطور خود ان چیزوں میں کی جائے وہ اللہ کے نزدیک جھوٹ ہے، بلکہ وہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ ان چیزوں میں بالکل لفظی طورپر پیغمبرانہ تعلیمات کی پیروی کرے۔ وہ کسی حال میںان میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔
یہ امور وہ ہیں جن کی حقیقت صرف خدا کو معلوم ہے۔ آدمی جب ان میں اپنی طرف سے کوئی بات کہتا ہے تو وہ ایسی چیز کے بارے میں اپنی واقفیت کا دعویٰ کرتا ہے جس کی اسے کوئی واقفیت نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ جھوٹ ہے، بلکہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ اس سے بڑا جھوٹ اور کوئی نہیں۔