Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 22:33 Prev 22:31


Arabic

ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَـٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے


English (Sahih International)

That [is so]. And whoever honors the symbols of Allah - indeed, it is from the piety of hearts


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 32 ذٰلِکَق وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ”شعائر کی واحد ”شعیرہ“ ہے۔ لغوی اعتبار سے اس لفظ کا تعلق ”شعور“ سے ہے۔ اس مفہوم میں ہر وہ چیز ”شعائر اللہ“ میں سے ہے جس کے حوالے سے اللہ کی ذات ‘ اس کی صفات اور اس کی بندگی کا شعور انسان کے دل میں پیدا ہو۔ اسی حوالے سے سورة البقرۃ میں صفا اور مروہ کو بھی شعائر اللہ کہا گیا ہے : اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ج آیت 158۔ چناچہ خود بیت اللہ ‘ مقام ابراہیم ‘ صفا اور مروہ سب شعائر اللہ میں شامل ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 32 and 33.

شعیرہ (جمع شعائر) کے معنی علامت (symbol) کے ہیں۔اسلام کی جو عبادات ہیں، ان کا ایک ظاہری پہلو ہے اور ایک اندرونی پہلو۔ اندرونی پہلو عبادت کا اصل ہے۔ اور جو ظاہری پہلو ہے وہ اسی اندرونی پہلو کی علامت، یا شعیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو شعائر مقرر کيے ہیں، ان کا حق اس طرح ادا نہیں ہوسکتا کہ ظاہری طورپر ان کی تعظیم کرلی جائے۔ ان کا حق ادا کرنے کے ليے دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔

ہدی ونیاز کے جانور شعائر اللہ میں سے ہیں۔ وہ ایک حقیقت کی علامت ہیں، نہ کہ وہ بذات خود حقیقت ہے۔ ان جانور کو رنگنا یا اس کا اہتمام کرنا کہ ان پر سواری نہ کی جائے، ان سے کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھایا جائے، یہ وہ چیزیں نہیں ہیں جن سے اللہ خوش ہوتاہو۔ اللہ کی خوشنودی اس میں ہے کہ جو کچھ کیا جائے اللہ کے لیے کیا جائے۔ اللہ کے یہاں قلبی حالت کی قدر ہے، نہ کہ محض ظاہری حالت کی۔


Connections

  • Previous: 22_31
  • Next: 22_33
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes