Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمۡسِكُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٖۚ وَلَا تُمۡسِكُوهُنَّ ضِرَارٗا لِّتَعۡتَدُواْۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهُۥۚ وَلَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوٗاۚ وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيۡكُم مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡحِكۡمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا، وہ در حقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے
English (Sahih International)
And when you divorce women and they have [nearly] fulfilled their term, either retain them according to acceptable terms or release them according to acceptable terms, and do not keep them, intending harm, to transgress [against them]. And whoever does that has certainly wronged himself. And do not take the verses of Allah in jest. And remember the favor of Allah upon you and what has been revealed to you of the Book and wisdom by which He instructs you. And fear Allah and know that Allah is Knowing of all things
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 231 وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍص تو یا تو معروف طریقے سے انہیں روک لو یا اچھے انداز سے انہیں رخصت کر دو۔ وَلاَ تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا ج۔ دیکھو ایسا مت کرو کہ تم انہیں تنگ کرنے کے لیے روک لو کہ میں اس کی ذرا اور خبر لے لوں ‘ اگر طلاق ہوجائے گی تو یہ آزاد ہوجائے گی۔ غصہ اتنا چڑھا ہوا ہے کہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہو رہا اور وہ اس لیے رجوع کر رہا ہے تاکہ عورت کو مزید پریشان کرے ‘ اسے اور تکلیفیں پہنچائے۔ اس طرح تو اس نے قانون کا مذاق اڑایا اور اللہ کی دی ہوئی اس اجازت کا ناجائز استعمال کیا۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط وَلاَ تَتَّخِذُوْْٓا اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًاز۔ ضروری ہے کہ احکام شریعت پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں خاص طور پر ازدواجی زندگی کے ضمن میں بار بار اللہ کے خوف اور تقویٰ کی تاکید کی گئی ہے۔ اگر تمہارے دل اس سے خالی ہوں گے تو تم اللہ کی شریعت کو کھیل تماشا بنا دو گے ‘ ٹھٹھا اور مذاق بنا دو گے۔وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ یَعِظُکُمْ بِہٖ ط۔ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمتیں پانے کے بعد بھی اگر تم نے اس کی حدود کو توڑا اور اس کی شریعت کو مذاق بنایا تو پھر تمہیں اس کی گرفت سے ڈرنا چاہیے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 2:229.