Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:230 Prev 2:228


Arabic

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں


English (Sahih International)

Divorce is twice. Then, either keep [her] in an acceptable manner or release [her] with good treatment. And it is not lawful for you to take anything of what you have given them unless both fear that they will not be able to keep [within] the limits of Allah. But if you fear that they will not keep [within] the limits of Allah, then there is no blame upon either of them concerning that by which she ransoms herself. These are the limits of Allah, so do not transgress them. And whoever transgresses the limits of Allah - it is those who are the wrongdoers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اب ہم اگلی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں :آیت 229 اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ ص ۔ یعنی ایک شوہر کو دو مرتبہ طلاق دے کر رجوع کرلینے کا حق ہے۔ ایک دفعہ طلاق دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو ٹھیک ہے۔ پھر طلاق دے دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو بھی ٹھیک ہے۔ تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو اب وہ رجوع نہیں کرسکتا۔ فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍ ط۔ یعنی دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد اب فیصلہ کرو۔ یا تو اپنی بیوی کو نیکی اور بھلائی کے ساتھ گھر میں روک لو ‘ تنگ کرنے اور پریشان کرنے کے لیے نہیں ‘ یا پھر بھلے طریقے سے ‘ بھلے مانسوں کی طرح اسے رخصت کر دو۔ وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْءًا جب تم طلاق دے رہے ہو تو تم نے انہیں جو مہر دیا تھا اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے۔ ہاں اگر عورت خود طلاق مانگے تو اسے اپنے مہر میں سے کچھ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن جب مرد طلاق دے رہا ہو تو وہ اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتا جو وہ اپنی بیوی کو دے چکا ہے۔ سورة النساء آیت 20 میں یہاں تک الفاظ آئے ہیں کہ اگرچہ تم نے سونے کا ڈھیر قِنطَار دے دیا ہو پھر بھی اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ط۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے ضمن میں جو اہداف و مقاصد معینّ فرمائے ہیں ‘ اس کے لیے جو احکام دیے ہیں اور جو آداب بتائے ہیں ‘ فریقین اگر یہ محسوس کریں کہ ہم انہیں ملحوظ نہیں رکھ سکتے تو یہ ایک استثنائی صورت ہے ‘ جس میں عورت کوئی مال یا رقم فدیہ کے طور پردے کر ایسے شوہر سے خلاصی حاصل کرسکتی ہے۔فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ لا فلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ط۔ یعنی ایسی صورت میں عورت اگر فدیہ کے طور پر کچھ دے دلا کر اپنے آپ کو چھڑا لے تو اس میں فریقین پر کوئی گناہ نہیں۔ مثلاً کسی عورت کا مہر دس لاکھ تھا ‘ وہ اس میں سے پانچ لاکھ شوہر کو واپس دے کر اس سے خلع لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا ج۔ دیکھئے روزے وغیرہ کے ضمن میں حدود اللہ کے ساتھ فَلَا تَقْرَبُوْھَا فرمایا تھا۔ یہاں فرمایا : فَلاَ تَعْتَدُوْہَا ج اس لیے کہ ان معاملات میں لوگ بڑے دھڑلے ّ سے اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کر جاتے ہیں۔ اگرچہ قانون باقی رہ جاتا ہے مگر اس کی روح ختم ہوجاتی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 229 to 231.

طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیاگیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔

نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کرکے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو، نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کيے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے— علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحادکے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لیے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی جائے۔ شریعت کے کسی حکم کو قانونی حیلوں کے ذریعہ کالعدم نہ کیا جائے۔ قانون کی تعمیل میں صرف قانون كے الفاظ کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کی حکمت (روح قانون) کو بھی سامنے رکھا جائے۔ علیحدگی سے پہلے اپنے سابقہ ساتھی کو جو کچھ دیا تھا اس کو علیحدگی کے بعد واپس لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ جس طرح تعلقات کے زمانہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا تھا اسی طرح علیحدگی کے زمانہ کو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا جائے۔


Connections

  • Previous: 2_228
  • Next: 2_230
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes