Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:233 Prev 2:231


Arabic

وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوۡاْ بَيۡنَهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ مِنكُمۡ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۗ ذَٰلِكُمۡ أَزۡكَىٰ لَكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے


English (Sahih International)

And when you divorce women and they have fulfilled their term, do not prevent them from remarrying their [former] husbands if they agree among themselves on an acceptable basis. That is instructed to whoever of you believes in Allah and the Last Day. That is better for you and purer, and Allah knows and you know not


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 232 وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بالْمَعْرُوْفِ ط جو عورت طلاق پا کر اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے کہ جہاں چاہے اپنی پسند سے نکاح کرلے۔ اس کے اس ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دی اور عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو اب عدت کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اسی شوہر سے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ آیت 228 کے ذیل میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکی ہے کہ ایک یا دو طلاق کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے۔ لیکن اگر عدت پوری ہوگئی تو اب یہ طلاق رجعی نہیں رہی ‘ طلاق بائن ہوگئی۔ اب شوہر اور بیوی کا جو رشتہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ اب اگر یہ رشتہ پھر سے جوڑنا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا اور اس میں عورت کی مرضی کو دخل ہے۔ عدت کے اندر اندر رجوع کی صورت میں عورت کی مرضی کو دخل نہیں ہے۔ لیکن عدت کے بعد اب عورت کو اختیار ہے ‘ وہ چاہے تو اسی سابق شوہر سے نکاح ثانی کرلے اور چاہے تو اپنی مرضی سے کسی اور شخص سے نکاح کرلے۔ البتہ طلاق مغلظّ تیسری طلاق کے بعد جب تک اس عورت کا نکاح کسی اور مرد سے نہ ہوجائے اور وہ بھی اسے طلاق نہ دے دے ‘ سابق شوہر کے ساتھ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ طلاق بائن کے بعد اگر وہی عورت اور وہی مرد پھر سے نکاح کرنا چاہیں تو اب کسی کو اس میں آڑے نہیں آنا چاہیے۔ عام طور پر عورت کے قریبی رشتے دار اس میں رکاوٹ بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے پہلے بھی تمہیں ستایا تھا ‘ اب تم پھر اسی سے نکاح کرنا چاہتی ہو ‘ ہم تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط جن کے اندر ایمان ہی نہیں ہے ان کے لیے تو یہ ساری نصیحت گویا بھینس کے آگے بین بجانا ہے جس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَاَطْہَرُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ لہٰذا تم اپنی عقل کو مقدم نہ رکھو ‘ بلکہ اللہ کے احکام کو مقدم رکھو۔ مرد اور عورت دونوں کا خالق وہی ہے ‘ اسے مرد بھی عزیز ہے اور عورت بھی عزیز ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اَلْخَلْقُ عَیَال اللّٰہِ 29 یعنی تمام مخلوق اللہ کے کنبے کی مانند ہے۔ لہٰذا اللہ کو تو ہر انسان محبوب ہے ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ہو۔ انسان اس کی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا علم بھی کامل ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ عورت کے کیا حقوق ہونے چاہئیں اور مرد کے کیا ہونے چاہئیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 232 and 233.

ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور زمانہ عدت میں رجعت نہ کی۔ جب عدت ختم ہوچکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ پہلے شوہر نے بھی نکاح کا پیغام دیا۔ عورت نے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا منظور کرلیا۔ مگر عورت کا بھائی غصہ میں آگیا اور نکاح کو روک دیا۔ اس پر یہ حکم اترا کہ جب دونوں دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنے پر راضی ہیں تو تم رکاوٹ نہ ڈالو۔

طلاق کے بعد بھی اکثر بہت سے مسائل باقی رہتے ہیں۔ کبھی پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کا معاملہ ہوتا ہے۔ کبھی مطلقہ عورت کسی ووسرے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ ایسے مواقع پر مشکلات پیدا کرنا درست نہیں۔ کبھی مطلقہ عورت بچے والی ہوتی ہے اور سابقہ شوہر کے بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک دوسرے کو تکلیف دینے سے منع کیا گیا اور حکم دیاگیا کہ معاملہ کو جذبات کا سوال نہ بناؤ، اس کو باہمی مشورہ اور رضا مندی سے طے کرلو — اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور علیحدگی کے وقت معاملہ کو نمٹانے کا مومنانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ طرفین کی جانب جو مسائل باقی رہ گئے ہوں ان کو ایک دوسرے کو پریشان کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ ان کو ایسے ڈھنگ سے طے کیا جائے جو دونوں جانب کے لیے بہتر اور قابل قبول ہو۔ ایمان روح کی پاکیزگی ہے پھر جس کی روح پاک ہو چکی ہو وہ اپنے معاملات میں ناپاکی کا طریقہ کیسے اختیار کرسکتاہے۔

نصیحت کسی کے لیے صرف اس بنا پر قابل قبول نہیں ہوجاتی کہ وہ برحق ہے۔ ضروری ہے کہ سننے والا اللہ پر یقین رکھتاہو اور اس کی پکڑ سے ڈرنے والا ہو۔ وہ سمجھے کہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو رد کرنے کے لیے آج اگر میں نے کچھ الفاظ پاليے تو اس سے اصل مسئلہ ختم نہیں ہوجاتا۔ کیوں کہ معاملہ بالآخر اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے اور وہاں کسی قسم کا زور اور کوئی لفظی حجت کام آنے والی نہیں۔


Connections

  • Previous: 2_231
  • Next: 2_233
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes