Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقُل رَّبِّ أَدۡخِلۡنِي مُدۡخَلَ صِدۡقٖ وَأَخۡرِجۡنِي مُخۡرَجَ صِدۡقٖ وَٱجۡعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلۡطَٰنٗا نَّصِيرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور دعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے
English (Sahih International)
And say, “My Lord, cause me to enter a sound entrance and to exit a sound exit and grant me from Yourself a supporting authority
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 80 وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ یہ ہجرت کی دعا ہے۔ جب ہجرت کا اذن آیا تو ساتھ ہی یہ دعا بھی تعلیم فرما دی گئی کہ اے اللہ ! تو مجھے جہاں بھی داخل فرمائے یعنی یثرب مدینہ میں عزت و تکریم کے ساتھ داخل فرما وہاں پر میرا داخلہ سچا داخلہ ہو اور یہاں مکہ سے مجھے نکالنا ہے تو باعزت طریقے سے نکال۔ یاد کیجیے کہ سورة یونس کی آیت 93 میں بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا کیے جانے کا ذکر بھی ”مُبَوَّاَ صِدْقٍ“ کے الفاظ سے ہوا ہے۔وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًایعنی مدینہ میں جس نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اس میں اپنے دین کے غلبے کے اسباب پیدا فرما ‘ اور مجھے وہ طاقت قوت اور اقتدار عطا فرما جس سے دین کی عملی تنفیذ کا کام آسان ہوجائے۔ اس دعا میں رسول اللہ کو بالکل وہی کچھ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے جو عنقریب آپ کو ملنے والا تھا۔ چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ میں آپ کا استقبال ایک بادشاہ کی طرح ہوا۔ اوس اور خزرج کے قبائل نے آپ کو اپنا حاکم تسلیم کرلیا۔ یہودیوں کے تینوں قبائل ایک معاہدے کے ذریعے آپ کی مرضی کے تابع ہوگئے اور یوں آپ مدینہ میں داخل ہوتے ہی وہاں کے بےتاج بادشاہ بن گئے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 80 and 81.
پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو مدینہ لے جایا جائے۔ مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو۔ تبلیغی کوشش کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مکہ فتح کرلیں اور بالآخر سارا عرب مسخر ہوجائے۔ اس طرح توحید کی پشت پر وہ طاقت جمع ہوجو مسلسل عمل کے ذریعہ ساری دنیا سے شرک کا غلبہ ختم کردے۔
یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو یہاں دعا کی صورت میں پیغمبر اسلام کو تلقین کیاگیا۔