Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:80 Prev 17:78


Arabic

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةٗ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے


English (Sahih International)

And from [part of] the night, pray with it as additional [worship] for you; it is expected that your Lord will resurrect you to a praised station


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 79 وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ یہاں لفظ ”بِہٖ“ میں وہی انداز ہے جس کی تکرار اس سے پہلے ہم سورة الانعام میں دیکھ چکے ہیں۔ اَنْذِر بِہٖ ‘ ذَکِّر بِہٖ یعنی انذار تذکیر تبشیر تبلیغ سب قرآن کے ذریعے سے ہو۔ چناچہ یہاں پر رسول اللہ کو تہجد کا حکم دیا گیا تو فرمایا گیا کہ رات کا ایک حصہ آپ قرآن کے ساتھ جاگیے۔ تہجد کی نماز آپ قرآن کے ساتھ پڑھیں۔ گویا تہجد کا مقصد اور اس کی اصل روح یہی ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھا جائے۔ چھوٹی چھوٹی سورتوں کے ساتھ رکعتوں کی مخصوص تعداد پوری کرلینے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا”مقام محمود“ بہت ہی اعلیٰ اور ارفع مقام ہے جس پر آنحضور کو میدان حشر میں اور جنت میں فائز کیا جائے گا۔ ہم اس مقام کی عظمت اور کیفیت کا اندازہ اپنے تصور سے نہیں کرسکتے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

تہجد کی نماز کی روح اللہ کو اپنی مخصوص تنہائیوں میں یاد کرنا ہے۔ تہجد کے لفظی معنی رات کی بیداری کے ہیں۔ رات کا وقت تنہائی اور سکون کاوقت ہوتا ہے۔ رات کو آدمی جب ایک نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ اس کے تمام اوقات میں سب سے بہتر وقت ہوتا ہے۔ ان لمحات میں آدمی جب خدا کی طرف متوجہ ہوتاہے اور نماز کی صورت میں ہاتھ باندھ کر خدا کے کلام کو پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنی عبدیت کی آخری تصویر بنا رہا ہوتا ہے۔ خاص طورپر اس وقت جب کہ اس کا دل بھی اس کا ساتھ دے رہا ہو اور ا س کی شخصیت اس طرح پگھل اٹھی ہو کہ وہ بے قرار ہو کر آنکھوں کے راستہ سے بہہ پڑے۔

مقام محمود کے لفظی معنی ہیں تعريف کیا ہوا مقام۔ اس محمودیت کا ایک دنیوی پہلو ہے اور ایک اس کا، اُخروی پہلو۔ اُخروی پہلو وہ ہے جس کو مفسرین شفاعت کبریٰ کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، قیامت کے دن تمام انبیاء اپنے مومنین کی شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت گویا ان کے مومن ہونے کی تصدیق ہوگی، جس کے بعد ان لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا، جن کو خدا جنت میں داخل کرنا چاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سب سے بڑی ہوگی۔ کیوںکہ اپنے امتیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ سب سے بڑی تعداد کی شفاعت فرمائیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محمودیت کا دنیوی پہلو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی تاریخ جمع ہوجائے کہ آپ تمام اقوام عالم کی نظر میں مسلمہ طور پر قابل ستائش اور لائق اعتراف بن جائیں۔ خدا کا یہ منصوبہ آپ کے حق میں مکمل طورپر پورا ہوا۔ آج دنیا کے تمام لوگ آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ کی نبوت ایک مسلّم نبوت بن چکی ہے، نہ کہ نزاعی نبوت جیسا کہ وہ آپ کے ظہور کے ابتدائی سالوں میں تھی۔

محمودی نبوت، دنیوی اعتبار سے مسلمہ (established) نبوت کا دوسرا نام ہے۔ یعنی ایسی نبوت جس کے حق میں تاریخی شہادتیں اتنی زیادہ کامل طورپر موجود ہوں کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں کسی کے لیے شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ انسان، خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق آپ کی حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اقرار واعتراف کی آخری صورت تعریف ہے، اس لیے اس کو ’’مقام محمود‘‘ کہاگیا ہے۔


Connections

  • Previous: 17_78
  • Next: 17_80
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes