Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَالَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لَمَّا قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ ٱلۡحَقِّ وَوَعَدتُّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُكُمۡۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوۡتُكُمۡ فَٱسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوٓاْ أَنفُسَكُمۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَآ أَنتُم بِمُصۡرِخِيَّ إِنِّي كَفَرۡتُ بِمَآ أَشۡرَكۡتُمُونِ مِن قَبۡلُۗ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے و ہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میر ی اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزا یقینی ہے
English (Sahih International)
And Satan will say when the matter has been concluded, “Indeed, Allah had promised you the promise of truth. And I promised you, but I betrayed you. But I had no authority over you except that I invited you, and you responded to me. So do not blame me; but blame yourselves. I cannot be called to your aid, nor can you be called to my aid. Indeed, I deny your association of me [with Allah] before. Indeed, for the wrongdoers is a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 22 and 23.
آیت 22 وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ جب تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا تو شیطان کہے گا :وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ میں تم پر کسی قسم کا جبر نہیں کرسکتا تھا اور تمہیں زبردستی برائی کی طرف نہیں لاسکتا تھا۔ یہ اختیار مجھے اللہ نے دیا ہی نہیں تھا۔اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ میں نے تم لوگوں کو ورغلایا معصیت کی دعوت دی اللہ کی نافرمانیوں اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دی اور تم لوگوں نے میرا کہا مان لیا۔فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سارے احکام تمہارے سامنے تھے اس کے راستے کے تمام نشانات تم پر واضح تھے۔ ان سے روگردانی کر کے تم لوگوں نے اپنی مرضی سے میرے راستے کو اختیار کیا۔ میں تمہیں زبردستی کھینچ کر اس طرف نہیں لے کر آیا۔ چناچہ آج مجھے کو سنے کے بجائے اپنے آپ کو لعن طعن کرو۔اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ تم نے دنیا میں جو کچھ بھی کیا تھا انتہائی غلط کیا تھا۔ تم لوگوں کو اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے تھا اور اس کے وعدے پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ تم لوگ نہ صرف اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال کر میرا کہنا مانتے رہے بلکہ مجھے اس کے برابر کا درجہ بھی دیتے رہے۔ آج میں تمہارے ان سب اعتقادات سے اعلان براءت کرتا ہوں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
خدا کی دنیا واقعات کی دنیا ہے، نہ کہ تخیلات کی دنیا ۔ یہاں شیطان کے وعدے پر اٹھنا یہ ہے کہ آدمی غیر حقیقی بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہے۔
آدمی حق کے داعی کو نظر انداز کردے اور دوسرے دوسرے کارنامے دکھا کر حق کا علم بردار ہونے کا کریڈٹ لے۔ وہ آخرت کے لیے عمل نہ کرے اور خود ساختہ مفروضوں کے تحت یہ امید قائم کرلے کہ اس کی نجات ہوجائے گی۔ وہ خدا کے احکام کے مطابق زندگی نہ گزارے اور یہ یقین کرلے کہ اس کا نام اپنے آپ خدا کے محبوب بندوں میں لکھ لیا جائے گا — یہ سب شیطان کے وعدوں پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور آخرت میں آدمی جان لے گا کہ صرف خدا کا وعدہ سچا وعدہ تھا۔ اور باقی تمام وعدے جھوٹے بھروسے تھے جو کبھی پورے ہونے والے نہیں۔
خدا کی دنیامیں غیرِ خدا سے امید قائم کرنا شرک ہے۔ اس لیے جو لوگ خدائی حقیقتوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور غیر خدائی توقعات پر اپنی زندگی کا محل کھڑا کرنا چاہتے ہیں، وہ گویا خدا کے ساتھ دوسری چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرارہے ہیں۔ یہ دوسری چیزیں فیصلہ کے دن ان کا کچھ بھی سہارا نہ بن سکیں گی۔