Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأُدۡخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِمۡۖ تَحِيَّتُهُمۡ فِيهَا سَلَٰمٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
بخلاف اس کے جو لوگ دنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں وہ اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارک باد سے ہوگا
English (Sahih International)
And those who believed and did righteous deeds will be admitted to gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein by permission of their Lord; and their greeting therein will be, “Peace
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 14:22.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
ملاقات کے وقت السلام علیکم کہنا محض ایک معاشرتی رسم نہیں۔ یہ قلبی تعلق کی ایک ظاہری علامت ہے۔ دنیا کا السلام علیکم بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے اور آخرت کا السلام علیکم بھی مزید اضافہ کے ساتھ یہی۔
جو لوگ دنیامیں اس طرح رہے کہ ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی کے جذبات بھرے ہوئے تھے۔ جو شکایتوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے سے محبت کرنا جانتے تھے۔ جو دوسرے کے لیے ہمیشہ وہ الفاظ بولتے تھے جس میں اس کا اعتراف اور احترام شامل ہو۔ جو دوسرے کے لیے وہی چیز پسند کرتے تھے جو اپنےلیے پسند کرتے تھے۔ جن کے سینے میں دوسروں کے لیے سلامتی کے چشمے ابلتے تھے اور جن کی آنکھیں دوسرے کی بھلائی کو دیکھ كر ٹھنڈی ہوتی تھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی نفیس دنیا میں بسائے جانے کے اہل ٹھہریں گے۔ دنیا میں بھی ان کا یہ حال تھا کہ جب وہ اپنے بھائیوں سے ملتے تو ان کے لیے ان کی محبت اور خیر خواہی ’’السلام علیکم‘‘ کی صور ت میں ٹپکتی تھی۔ آخرت میں یہی چیز اور زیادہ لطیف اور خالص بن کر اپنے جنتی پڑوسیوں کے بارے میں ان کی زبانوں سے نکلے گی۔