Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 14:22 Prev 14:20


Arabic

وَبَرَزُواْ لِلَّهِ جَمِيعٗا فَقَالَ ٱلضُّعَفَـٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ قَالُواْ لَوۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيۡنَٰكُمۡۖ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَجَزِعۡنَآ أَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اُس وقت اِن میں سے جو دنیا میں کمزور تھے و ہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے “دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو؟“وہ جواب دیں گے “اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے اب تو یکساں ہے، خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں


English (Sahih International)

And they will come out [for judgement] before Allah all together, and the weak will say to those who were arrogant, “Indeed, we were your followers, so can you avail us anything against the punishment of Allah?” They will say, “If Allah had guided us, we would have guided you. It is all the same for us whether we show intolerance or are patient: there is for us no place of escape


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 21 وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَال الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَاب اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ کمزور لوگ طاقتور لوگوں سے جنہیں وہ دنیا میں اپنے سردار اور لیڈر مانتے تھے کہیں گے کہ ہم آپ کے فرمانبردار تھے آپ کا ہر حکم مانتے تھے آپ کی خدمت کرتے تھے آپ کے جھنڈے اٹھاتے تھے آپ کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے تو کیا آپ ہماری ان خدمات کے عوض آج اس عذاب سے ہمیں کچھ رعایت دلا سکتے ہیں ؟قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ وہ کو را جواب دے دیں گے کہ ہم خود گمراہ تھے سو ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیا۔سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ اب تو یکساں ہے خواہ ہم بےقراری کا مظاہرہ کریں چیخیں چلائیں یا صبر کریں ہمارے لیے کوئی مفر نہیں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

انسان، بطور واقعہ اگر چہ ہر وقت ’’خدا کے سامنے‘‘ ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو بظاہر خدا کے سامنے نہیں پاتا۔ آخرت میں یہ پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ وہ اس طرح کامل طورپر خدا کے سامنے تھا کہ اس کی کوئی چیز خدا سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔

دنیا میں جو لوگ حق کو نظر انداز کرتے ہیں ان کا سب سے بڑا سہارا ان کے مفروضہ اکابر ہوتے ہیں۔ خواہ وہ مُردہ اکابر ہوں یا زندہ اکابر۔ چھوٹے جو کچھ کرتے ہیں اپنے بڑوں کے بَل پر کرتے ہیں۔ آخرت میں جب یہ لوگ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کی حالت میں پائیں گے تو وہ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمھاری رہنمائی پر اعتماد كيے ہوئے تھے، اب یہاں بھی تم ہماری کچھ رہنمائی کرو۔

اس کے جواب میں ان کے بڑے اپنے چھوٹوں سے کہیں گے کہ آج کا دن تو اسی لیے آیا ہے کہ وہ ہمارے بے رہنما ہونے کو بے نقاب کرے۔ پھر اب ہم تم کو کیا رہنمائی دے سکتے ہیں۔ ہماری رہنمائی تو محض وقتی فریب تھی جو پچھلی دنیامیں ختم ہوگئی۔ اب تو یہی ہے کہ تم بھی اپنے بھٹکنے کا نتیجہ بھگتو اور ہم بھی اپنی گمراہی کا نتیجہ بھگتیں۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، بہر حال اب ہمارا اس کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔


Connections

  • Previous: 14_20
  • Next: 14_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes