Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱسۡتَجِيبُواْ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيكُمۡۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسُول تمہیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
English (Sahih International)
O you who have believed, respond to Allah and to the Messenger when he calls you to that which gives you life. And know that Allah intervenes between a man and his heart and that to Him you will be gathered
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 24 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ج۔تم جنگ کے لیے جاتے ہوئے سمجھ رہے ہو کہ یہ موت کا گھاٹ ہے ‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ تو اصل اور ابدی زندگی کا دروازہ ہے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں شہداء کے بارے میں فرمایا گیا : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ ۔ چناچہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ جس چیز کی طرف تمہیں بلا رہے ہیں ‘ حقیقی زندگی وہی ہے۔ اس کے مقابلے میں اس دعوت سے اعراض کر کے زندگی بسر کرنا گویا حیوانوں کی سی زندگی ہے ‘ جس کے بارے میں ہم سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں : اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط الاعراف : 179۔وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ اور جان رکھو کہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجایا کرتا ہے یعنی اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پکار سنی اَن سنی کردی جائے اور ان کے احکامات سے بےنیازی کو وطیرہ بنا لیا جائے تو اللہ تعالیٰ خود ایسے بندے اور ہدایت کے درمیان آڑ بن جاتا ہے ‘ جس سے آئندہ وہ ہدایت کی ہر بات سننے اور سمجھنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ اسی مضمون کو سورة البقرۃ کی آیت 7 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ ط کہ ان کے دلوں اور ان کی سماعت پر اللہ نے مہر کردی ہے۔ جبکہ سورة الانعام کی آیت 110 میں اس اصول کو سخت ترین الفاظ میں اس طرح واضح کیا گیا ہے : وَنُقَلِّبُ اَفْءِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ یعنی حق کے پوری طرح واضح ہو کر سامنے آجانے پر بھی جو لوگ فوری طور پر اسے مانتے نہیں اور اس سے پہلوتہی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے دل الٹ دیے جاتے ہیں اور ان کی بصارت پلٹ دی جاتی ہے۔ چناچہ یہ بہت حساس اور خوف کھانے والا معاملہ ہے۔ دین کا کوئی مطالبہ کسی کے سامنے آئے ‘ اللہ کا کوئی حکم اس تک پہنچ جائے اور اس کا دل اس پر گواہی بھی دے دے کہ ہاں یہ بات درست ہے ‘ پھر اگر وہ اس سے اعراض کرے گا ‘ کنی کترائے گا ‘ تو اس کی سزا اسے اس دنیا میں یوں بھی مل سکتی ہے کہ حق کو پہچاننے کی صلاحیت ہی اس سے سلب کرلی جاتی ہے ‘ دل اور سماعت پر مہر لگ جاتی ہے ‘ آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں ‘ ہدایت اور اس کے درمیان آڑ کردی جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 24 and 25.
’’زندگی کی پکار‘‘ سے مراد یہاں جہاد کی پکار ہے۔ یعنی حق کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد۔ یہ جدوجہد ابتداء ً زبان وقلم کے ذریعہ تلقین کی صورت میں شروع ہوتی ہے۔ مگر مدعو کا مخالفانہ رد عمل اس کو مختلف مراحل تک پہنچا دیتاہے، حتی کہ ہجرت اور جنگ تک بھی۔
آدمی انفرادی سطح پر اپنے خیال کے مطابق ایک دینی زندگی بناتا ہے۔ اس زندگی کو وہ اپنے حالات سے اس طرح مطابق کرلیتاہے کہ وہ اس کو عافیت کا جزیرہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ اگر وہ دوسروں کی اصلاح کے ليے اٹھتاتو اس کا بنا بنایا آشیانہ اجڑ جائے گا۔ اس کی لگی بندھی زندگی بے ترتیب ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے وقت اور اس کے مال کا وہ نظام باقی نہ رہے گا، جو اس نے اپنے ذاتی تقاضوں کے تحت بنا رکھا ہے۔
اس قسم کے اندیشے اس کے ليے دعوت واصلاح کی جدوجہد میں نکلنے اور اس کی راه میں جان ومال پیش کرنے کے ليے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جس عافیت کدہ کو اپنے ليے زندگی سمجھ رہا ہے، وہ اس کا قبرستان ہے۔ اور جس قربانی میں اس کو اپنی موت نظر آتی ہے اسی میں اس کی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔
دعوت واصلاح کا عمل، بشرطیکہ وہ آخرت کے ليے ہو، نہ کہ دنیوی مقاصد کے ليے، انتہائی اہم عمل ہے۔ وہ آدمی کے مُردہ دین کو زندہ دین بناتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین سطح پر انسان کو خدا سے جوڑتاہے۔ وہ ان قیمتی دینی تجربات سے آدمی کو آشنا کرتاہے جو انفرادی خول میں رہ کر کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ خدا کی طرف سے اتنی اہم پکار کو سن کر جو لوگ اس کے بارے میں بے توجہ رہیں، وہ یہ خطرہ مول لے رهے ہیں کہ ان کے اور حق کے درمیان ایک نفسیاتی آڑ کھڑی ہوجائے۔ ان کی یہ فطری صلاحیت ہمیشہ کے ليے کُند ہوجائے کہ وہ حق کی پکار سنیں اور اس کی طرف دوڑ کر اپنے رب کو پالیں۔
انسان کی زندگی ایک سماجی زندگی ہے۔ کوئی شخص اس کے اندر اپنا انفرادی جزیرہ بنا کر نہیں رہ سکتا۔ اگر ایک شخص ذاتی دین داری پر قانع ہے تو وہ ہر وقت اس اندیشہ میں ہے کہ اجتماعی بگاڑ کے نتیجہ میں کوئی عمومی آگ پھیلے اور وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آجائے۔ اصلاحی جدوجہد اصلاح کے ساتھ برأت بھی ہے۔ اگر آدمی اپنی برأت پیش کرنے میں ناکام رہے تو خدا اس کے معاملہ کو کیوں دوسروں سے الگ کرے گا۔
کوئی برائی ہمیشہ چھوٹی سطح سے شروع ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑی بن جاتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ برائی جب اپنی ابتدائی حالت میں ہو اسی وقت کچھ لوگ اس کے خلاف اٹھ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ اسے کچل دیں گے۔ لیکن جب برائی پھیل چکی ہو تو اس کی جڑیں اتنی گہری ہوجاتی ہیں کہ پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔