Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَوۡ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمۡ خَيۡرٗا لَّأَسۡمَعَهُمۡۖ وَلَوۡ أَسۡمَعَهُمۡ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے
English (Sahih International)
Had Allah known any good in them, He would have made them hear. And if He had made them hear, they would [still] have turned away, while they were refusing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 23 وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْہِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ ط وَلَوْ اَسْمَعَہُمْ لَتَوَلَّوْا وَّہُمْ مُّعْرِضُوْنَ اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اندر کوئی صلاحیت پاتا تو ان کو سننے اور سمجھنے کی توفیق دے دیتا ‘ لیکن اگر انہیں بغیر صلاحیت کے تعمیل حکم میں جنگ کے لیے نکل آنے کی توفیق دے بھی دی جاتی تو یہ خطرے کا موقع دیکھتے ہی پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تنبیہہ ہے جو کفار کے لشکر کا سامنا کرنے میں پس و پیش کر رہے تھے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
آدمی کے سامنے جب حق بات پیش کی جائے تو ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس کو ان تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے سنے جو خدا نے اس کو بحیثیت انسان عطا کی ہیں۔ وہ اس پر پوری طرح دھیان دے۔ وہ اس کی صداقت کے وزن کو محسوس کرلے۔ اور پھر اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش کرے جو ایک حق کے مقابلہ میں انسان کی فطرت کو پیش کرنا چاہیے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو انسان کی طرح سنا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس کو اس طرح سنے جیسے کہ اس کے پاس سننے کے ليے کان نہیں ہیں۔ اس کے سمجھنے کی صلاحیت اس کی سچائی کو پکڑنے سے عاجز رہ جائے۔ وہ اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش نہ کرسکے جو اس کو ازروئے واقعہ پیش کرنا چاهيے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو جانور کی طرح سنا۔
کوئی بات خواہ وہ کتنی ہی برحق ہو اس کی حقانیت صرف اسی شخص پر کھلتی ہے جو دل کی آمادگی کے ساتھ اس کو سنے۔ اس کے برعکس، جو شخص حسد، کبر، مصلحت اندیشی اور ظاہر پرستی کا مزاج اپنے اندر ليے ہوئے ہو وہ سچائی کو قابل غور نہیں سمجھے گا، وہ اس کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں سنے گا، اس ليے وہ اس کی صداقت کو پانے میں بھی یقینی طور پر ناکام رہے گا۔
ایمان بظاہر ایک قول ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک انسانی فیصلہ ہے۔ ایمان محض شہادت کے الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنی معنوی حالت کا لفظی اظہار ہے۔ اگر آدمی کی حالت فی الواقع وہی ہو جس کا وہ ان الفاظ کے ذریعے اعلان کررہا ہے تو وہ خدا کی نظر میں حقیقی مومن ہے۔ مومن سنجیدہ ترین انسان ہے اور سنجیدہ انسان کبھی ایسا نہیں کرسکتا کہ اس کي اندرونی حالت کچھ ہو اور بولے ہوئے الفاظ میں وہ اپنے کو کچھ ظاہر کرے۔
جس آدمی کا ایمان اپنی اندرونی حقیقت کے اعلان کے ہم معنی ہو وہ ایمان کا اقرار کرتے ہی عملاً خدا کو اپنا معبود بنالے گا اور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اس کی پیروی کرنے والا بن جائے گا۔ زبان سے ایمان کا اقرار اس کے ليے اپنی سمت سفر بتانے کے ہم معنی ہوگا، نہ کہ کسی قسم کے لسانی تلفظ کے ہم معنی۔ اس کے برعکس، حالت اس شخص کی ہے جس نے بات سنی۔ وہ اس کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب بھی ہوگیا۔ مگر وہ اس کی روح میں نہیں اتری۔ وہ اس کے دل کی دھڑکنوں میں شامل نہیں ہوئی۔ تاہم اوپری طورپر اس نے زبان سے کہہ دیا کہ ہاں ٹھیک ہے۔ مگر اس کی واقعی زندگی اس کے بعد بھی ویسی ہی رہی جیسی کہ وہ اس سے پہلے تھی۔ یہ دوسری نفاق کی صورت ہے اور خدا کے یہاں ایسے منافقانہ ایمان کی کوئی قیمت نہیں۔