Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمٗا ثَقِيلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں
English (Sahih International)
Indeed, these [disbelievers] love the immediate and leave behind them a grave Day
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 27{ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ہُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا۔ } ”یقینا یہ لوگ فوری ملنے والی چیز دنیا سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن جو ان کے پیچھے آنے والا ہے ‘ اس کا دھیان چھوڑے بیٹھے ہیں۔“ یعنی قیامت کا سخت دن : { یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا۔ } المزمل ”وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا“۔ اس آیت کے مضمون کا ربط سورة القیامہ کی ان آیات کے ساتھ ہے : { کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ - وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”ہرگز نہیں ! اصل میں تم لوگ عاجلہ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہو۔ اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 76:23.