Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَٱسۡجُدۡ لَهُۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلٗا طَوِيلًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے رہو
English (Sahih International)
And during the night prostrate to Him and exalt Him a long [part of the] night
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 26{ وَمِنَ الَّـیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ } ”اور رات کے ایک حصے میں اس کے لیے سجدہ کیا کیجیے“ { وَسَبِّحْہُ لَـیْلًا طَوِیْلًا۔ } ”اور رات کے بڑے حصے میں اس کی تسبیح کیا کیجیے۔“ یہ اسی حکم کا تسلسل ہے جو سورة المزمل کی ابتدائی آیات میں دیا گیا تھا۔ یعنی آپ ﷺ رات کا بیشتر حصہ اللہ کے حضور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنے ‘ اس کے حضور سربسجود رہنے اور اس کی تسبیح کرنے میں َصرف کیا کریں۔ اس وقت تک چونکہ ابھی نماز پنجگانہ کا حکم نہیں آیا تھا ‘ اس لیے سارا زور رات کی عبادت پر تھا۔ بعد میں جب نماز پنجگانہ کی فرضیت کا حکم آگیا تو اس ”قیام اللیل“ کو مختصر کر کے تہجد میں تبدیل کردیا گیا۔ وہ بھی سب کے لیے نہیں صرف حضور ﷺ کے لیے : { وَمِنَ الَّــیْلِ فَتَہَجَّدْ بہٖ نَافِلَۃً لَّکَ } بنی اسراء یل : 79۔ نَافِلَۃ کے لفظی معنی اضافی اور زائد کے ہیں۔ یعنی حضور ﷺ کے لیے نماز تہجد باقی فرض نمازوں کے علاوہ اضافی فرض کے درجے میں تھی ‘ جبکہ امت کے لیے اس کی حیثیت نفل کی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 76:23.