Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 75:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

لَآ أُقۡسِمُ بِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی


English (Sahih International)

I swear by the Day of Resurrection


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1{ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ } ”نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔“ لَا یہاں پر معترضین کے دلائل کی نفی کے لیے آیا ہے۔ مطلب یہ کہ تمہیں تو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ناممکن نظرآ رہا ہے اور اس بنیاد پر تم لوگ وقوع قیامت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہو ‘ مگر مجھے اس کے وقوع کے بارے میں اس قدر یقین ہے کہ میں اس کی قسم کھارہا ہوں۔ موقف کے موکد اور موقر ّہونے کے اعتبار سے یہ آیت سورة التغابن کی اس آیت سے گہری مشابہت رکھتی ہے : { قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَـبَّـؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْط } آیت 7 ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : کیوں نہیں ! مجھے میرے رب کی قسم ہے ‘ تم لازماً اٹھائے جائو گے ‘ پھر تمہیں لازماً جتا دیا جائے گا ان اعمال کے بارے میں جو تم نے کیے ہیں“۔ سورة التغابن کی اس آیت کا اسلوب اور انداز بہت پرزور ہے ‘ لیکن دیکھا جائے تو اس میں خارجی دلیل اور منطق کوئی بھی نہیں۔ البتہ ایک شخص اپنے موقف کے حق میں اپنی شخصیت اور اپنے یقین کو دلیل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ لیکن یہ شخصیت وہ ہے جس کے قول و کردار کی سچائی کو اپنے پرائے سب نے مثالی مانا ہے اور یہی اس قول کے سچا ہونے کی سب سے قوی دلیل ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے معاملے میں بھی وقوع قیامت کے دعوے کی دلیل محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور آپ ﷺ کی سیرت ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 19.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 75_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes