Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَذَرۡهُمۡ يَخُوضُواْ وَيَلۡعَبُواْ حَتَّىٰ يُلَٰقُواْ يَوۡمَهُمُ ٱلَّذِي يُوعَدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لہٰذا اِنہیں اپنی بیہودہ باتوں اور اپنے کھیل میں پڑا رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن تک پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے
English (Sahih International)
So leave them to converse vainly and amuse themselves until they meet their Day which they are promised
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 42{ فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ چھوڑ دیجیے انہیں ‘ یہ لگے رہیں بےہودہ باتوں اور کھیل کود میں“ { حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”یہاں تک کہ یہ ملاقات کریں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“ قبل ازیں سورة الطور ‘ آیت 45 میں بھی ہم یہی الفاظ { فَذَرْہُمْ حَتّٰی یُلٰقُوْا } پڑھ آئے ہیں۔ یہ اسلوب ابتدائی دور کی سورتوں میں عام ملتا ہے۔ اس میں ایک طرف حضور ﷺ کی دلجوئی اور تسلی کا پہلو ہے تو دوسری طرف مشرکین سے نفرت اور غصے کا اظہار بھی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 70:40.