Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 70:41 Prev 70:39


Arabic

فَلَآ أُقۡسِمُ بِرَبِّ ٱلۡمَشَٰرِقِ وَٱلۡمَغَٰرِبِ إِنَّا لَقَٰدِرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اِس پر قادر ہیں


English (Sahih International)

So I swear by the Lord of [all] risings and settings that indeed We are able


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 40{ فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ } ”تو نہیں ! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کی“ قرآن مجید میں صیغہ واحد کے طور پر تو مشرق اور مغرب کا ذکر بہت مرتبہ آیا ہے۔ سورة الرحمن کی آیت 17 میں رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِبھی ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں دونوں سمتوں کے لیے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ مشرق و مغرب سے متعلق ان تینوں صیغوں واحد ‘ تثنیہ اور جمع کی وضاحت سورة الرحمن کی آیت 17 کے تحت کی جا چکی ہے۔ { اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ۔ } ”یقینا ہم قادر ہیں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 40 to 44.

زمین پر بار بار مشرق اور مغرب کا بدلنا زمین کی اس انوکھی خصوصیت کی بنا پر ہوتا ہے جس کو محوری جھکاؤ (axial tilt) کہتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے زمین پر مختلف قسم کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی نسبت سے اگر زمین میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین انسان کے لیے بہت کم مفید ہوتی۔ اس جھکاؤ نے زمین کو انسان کے لیے بہت زیادہ مفید بنا دیا۔

جس دنیا میں کم بہتر کو زیادہ بہتر بنانے کی ایسی مثال موجود ہو، اس دنیا میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات کا ظہور میں آنا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ ان کھلی کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ نصیحت نہ پکڑیں وہ بلا شبہ غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ اور غیر سنجیدہ لوگ صرف اس وقت نصیحت پکڑتے ہیں جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیے گئے ہوں۔


Connections

  • Previous: 70_39
  • Next: 70_41
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes