Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 7:114 Prev 7:112


Arabic

وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوٓاْ إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آ گئے اُنہوں نے “اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟


English (Sahih International)

And the magicians came to Pharaoh. They said, “Indeed for us is a reward if we are the predominant


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 113 وَجَآء السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Iیہاں پر غیر ضروری تفاصیل کو چھوڑ کر رسالت کے مقام و منصب اور دنیا داروں کے مادہ پرستانہ کردار کے فرق کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اللہ کے رسول موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کے مطابق انہیں نشانیاں دکھائیں مگر آپ علیہ السلام کو اس سے کوئی مفاد مطلوب نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون اور اہل دربار کو مرعوب کر کے کسی انعام و اکرام کا مطالبہ نہیں کیا۔ جب کہ دوسری طرف جادوگروں کا کردار خالص مادہ پرستانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے آتے ہی جو مطالبہ کیا وہ مالی منفعت سے متعلق تھا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 113 to 122.

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔


Connections

  • Previous: 7_112
  • Next: 7_114
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes