Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 7:104 Prev 7:102


Arabic

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَظَلَمُواْ بِهَاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا


English (Sahih International)

Then We sent after them Moses with Our signs to Pharaoh and his establishment, but they were unjust toward them. So see how was the end of the corrupters


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 103 and 104.

آیت 103 ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِہِمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاءِہٖ اب تک جن پانچ قوموں کا ذکر ہوا ہے وہ جزیرہ نمائے عرب ہی کے مختلف علاقوں میں بستی تھیں ‘ لیکن اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بنی اسرائیل کا ذکر ہوگا جو مصر کے باسی تھے۔ مصر بر اعظم افریقہ کے شمال مشرقی کونے میں واقع ہے۔ اس قصے میں صحرائے سینا کا بھی ذکر آئے گا ‘ جو مثلث شکل میں ایک جزیرہ نما Sinai Peninsula ہے ‘ جو مصر اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ مصر میں اس وقت فراعنہ فرعون کی جمع کی حکومت تھی۔ جس طرح عراق کے قدیم بادشاہ نمرود کہلاتے تھے اسی طرح مصر میں اس دور کے بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو براہ راست اپنے وقت کے بادشاہ فرعون کے پاس بھیجا گیا تھا۔فَظَلَمُوْا بِہَاج فانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ یعنی ہماری نشانیوں کا انکار کر کے ان کی حق تلفی کی اور انہیں جادوگری قرار دے کر ٹالنے کی کوشش کی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 103 to 112.

پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔

خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔

حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج

5:1

) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔


Connections

  • Previous: 7_102
  • Next: 7_104
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes