Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو
English (Sahih International)
So I swear by what you see
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 38 and 39.
سورة الحاقہ کے دوسرے رکوع کی سورة الواقعہ کے آخری رکوع سے گہری مشابہت ہے۔ چناچہ اگلی آیات کو پڑھتے ہوئے سورة الواقعہ کی ان آیات کو بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : { فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ - وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ - اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ } ”تو نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔ اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو ! یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 38 to 52.
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔