Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 68:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں


English (Sahih International)

Nun. By the pen and what they inscribe


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1{ نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ۔ } ”ن ‘ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ یہ لکھتے ہیں۔“ یعنی قلم بھی اور جو علمی ذخیرہ قلم کے ذریعہ نوع انسانی کے ہاں اب تک وجود میں آیا ہے وہ بھی اس حقیقت پر گواہ ہے کہ :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 7.

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔

اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 68_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes