Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَكَيۡفَ أَخَافُ مَآ أَشۡرَكۡتُمۡ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمۡ أَشۡرَكۡتُم بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗاۚ فَأَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ أَحَقُّ بِٱلۡأَمۡنِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو
English (Sahih International)
And how should I fear what you associate while you do not fear that you have associated with Allah that for which He has not sent down to you any authority? So which of the two parties has more right to security, if you should know
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 81 وَکَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا ط۔اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شراکت کی کوئی سند موجود ہی نہیں۔ نہ عقل اور فطرت میں اس کی کوئی بنیاد ہے نہ کسی آسمانی کتاب میں کسی دوسرے معبود کے لیے کوئی گنجائش ہے۔فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بالْاَمْنِج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یعنی ایک شخص موحد ہے ‘ ایک اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ ساری کائنات کا بلا شرکت غیرے مالک ہے ‘ ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے ‘ جبکہ دوسرا وہ ہے جو اللہ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اس کے اقتدار و اختیار میں بعض دوسری ہستیوں کو بھی شریک سمجھتا ہے ‘ کچھ چھوٹے معبودوں اور دیوی دیوتاؤں کو بھی مانتا ہے۔ تو اب ذرا بتاؤ کہ امن ‘ چین ‘ روحانی اطمینان اور حقیقی سکون قلب کا زیادہ حق دار ان دونوں میں سے کون ہوگا ؟ سوال کرنے کے بعد اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 6:80.