Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:81 Prev 6:79


Arabic

وَحَآجَّهُۥ قَوۡمُهُۥۚ قَالَ أَتُحَـٰٓجُّوٓنِّي فِي ٱللَّهِ وَقَدۡ هَدَىٰنِۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشۡرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّي شَيۡـٔٗاۚ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًاۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا “کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟


English (Sahih International)

And his people argued with him. He said, “Do you argue with me concerning Allah while He has guided me? And I fear not what you associate with Him [and will not be harmed] unless my Lord should will something. My Lord encompasses all things in knowledge; then will you not remember


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 80 وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ ط۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام سے حجت بازی شروع کردی کہ یہ تم نے کیا کہہ دیا ہے ‘ تمام دیوی دیوتاؤں کی نفی کردی ‘ سارے ستاروں اور چاند سورج کی ربوہیت سے انکار کردیا ! اب ان دیوی دیوتاؤں اور ستاروں کی نحوست تم پر پڑے گی۔ اب تم انجام کے لیے تیار ہوجاؤ ‘ تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنِط وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْءًا ط۔ہاں اگر اللہ چاہے کہ مجھے کوئی تکلیف پہنچے ‘ کوئی آزمائش آجائے تو ٹھیک ہے ‘ کیونکہ وہ میرا خالق اور میرا رب ہے ‘ لیکن اس کے علاوہ مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں ‘ نہ تمہاری کسی دیوی کا ‘ نہ کسی دیوتا کا ‘ نہ کسی ستارے کی نحوست کا اور نہ کسی اور کا۔ وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاط اَفَلاَ تَتَذَکَّرُوْنَ میرے رب کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ تو کیا تم لوگ سوچتے نہیں ہو ‘ عقل سے کام نہیں لیتے ہو ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 80 to 83.

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔

اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔

ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔


Connections

  • Previous: 6_79
  • Next: 6_81
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes