Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:32 Prev 6:30


Arabic

قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ قَالُواْ يَٰحَسۡرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطۡنَا فِيهَا وَهُمۡ يَحۡمِلُونَ أَوۡزَارَهُمۡ عَلَىٰ ظُهُورِهِمۡۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے “افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی” اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں


English (Sahih International)

Those will have lost who deny the meeting with Allah, until when the Hour [of resurrection] comes upon them unexpectedly, they will say, “Oh, [how great is] our regret over what we neglected concerning it,” while they bear their burdens on their backs. Unquestionably, evil is that which they bear


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 31 قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآء اللّٰہِ ط۔وہ اس بات کو جھٹلا رہے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی پیشی ‘ حاضری یا اللہ سے ملاقات وغیرہ ہوگی۔ حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ تْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً ایک شخص کے لیے انفرادی طور پر تو السَّاعَۃ گھڑی سے مراد اس کی موت کا وقت ہے ‘ لیکن عام طور پر اس سے قیامت ہی مراد لی گئی ہے۔ چناچہ اس کا مطلب ہے کہ جب قیامت اچانک آجائے گی۔قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْہَالا وَہُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَہُمْ عَلٰی ظُہُوْرِہِمْ ط اَلاَ سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ ۔جب قیامت حق بن کر سامنے آجائے گی تو ان کی حسرت کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ وہ اپنی پیٹھوں پر کفر ‘ شرک اور گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہوئے میدان حشر میں پیش ہوں گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 6:29.


Connections

  • Previous: 6_30
  • Next: 6_32
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes