Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:30 Prev 6:28


Arabic

وَقَالُوٓاْ إِنۡ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوثِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے


English (Sahih International)

And they say, “There is none but our worldly life, and we will not be resurrected


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 29 and 30.

آیت 29 وَ قَالُوْٓا اِنْ ہِیَ الاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔جیسے آج کل کفر و الحاد کے مختلف shades ہیں ‘ اس زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔ آج ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو اللہ کو تو مانتے ہیں ‘ آخرت کو نہیں مانتے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں ‘ لیکن رسالت کو نہیں مانتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بالکل ملحد اور مادہ پرست ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی طبعی موت مرجاتے ہیں ‘ اور ہماری زندگی صرف یہی ہے ‘ مرنے کے بعد اٹھنے والا کوئی معاملہ نہیں۔ اسی طرح اس دور میں بھی کفر و شرک کے مختلف shades موجود تھے۔ قریش کے اکثر لوگ اور عرب کے بیشتر مشرکین اللہ کو مانتے تھے ‘ آخرت کو مانتے تھے ‘ بعث بعد الموت کو بھی مانتے تھے ‘ لیکن اس کے ساتھ وہ دیوی دیوتاؤں کی سفارش اور شفاعت کے قائل تھے کہ ہمیں فلاں چھڑا لے گا ‘ فلاں بچا لے گا ‘ فلاں ہمارا حمایتی اور مدد گار ہوگا۔ لیکن ایک طبقہ ان میں بھی ایسا تھا جو کہتا تھا کہ زندگی بس یہی دنیا کی ہے ‘ اس کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے۔ یہاں اس آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 29 to 32.

جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرتاہے یا نفس کی خواہشات پر چلتاہے تو ایسا اس بنا پر ہوتاہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے کھڑا کیاجائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ اس کو مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں، جن پروہ بھروسہ کرسکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرلیتاہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ رہوں گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور استحقاق۔

اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایساکر رہا ہے۔ آدمی جس روشنی میں چلتاہے اور جس ہوا میں سانس لیتاہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کاکوئی بھي جزء اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لیے آدمی دوڑتاہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیداکی ہوئی نہیں ہیں تو جو ان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا، اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کاموجودہ دنیا کو استعمال کرنا ہی لازم کردیتاہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کیا جائے۔

جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو ولعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو لعب کی زندگی چندروز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لیے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔ موجودہ دنیا میں آدمی ان حقیقتوں کا انکار کرتاہے مگر امتحان کی آزادی ختم ہوتے ہی وہ اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا اگر چہ اس وقت کا اقرار اس کے کچھ كام نہ آئے گا۔


Connections

  • Previous: 6_28
  • Next: 6_30
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes