Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:152 Prev 6:150


Arabic

۞قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے محمدؐ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ا ن کو بھی دیں گے اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو


English (Sahih International)

Say, “Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities - what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allah has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 151 قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ تم لوگ جب چاہتے ہو کسی بکری کو حرام قرار دے دیتے ہو ‘ کبھی خود ہی کسی اونٹ کو محترم ٹھہرا لیتے ہو ‘ اور اس پر مستزاد یہ کہ پھر اپنی ان خرافات کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہو۔ آؤ میں تمہیں واضح طور پر بتاؤں کہ اللہ نے اصل میں کن چیزوں کو محترم ٹھہرایا ہے ‘ ممنوع اور حرام چیزوں کے بارے میں اللہ کے کیا احکام ہیں اور اس سلسلے میں اس نے کیا کیا حدود وقیود مقرر کی ہیں۔ یہ مضمون تفصیل کے ساتھ سورة بنی اسرائیل میں آیا ہے۔ وہاں ان احکام کی تفصیل میں پورے دو رکوع تیسرا اور چوتھا نازل ہوئے ہیں۔ ایک طرح سے انہی احکام کا خلاصہ یہاں ان آیات میں بیان ہوا ہے۔ شریعت کے بنیادی احکام دراصل ضرورت اور حکمت الٰہی کے مطابق قرآن حکیم میں مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں وارد ہوئے ہیں۔ سورة البقرۃ دسویں رکوع میں جہاں بنی اسرائیل سے میثاق لینے کا ذکر آیا ہے وہاں دین کے اساسی نکات بھی بیان ہوئے ہیں۔ پھر اس کے بعد شرعی احکام کی کچھ تفصیل ہمیں سورة النساء میں ملتی ہے۔ اس کے بعد یہاں اس سورة میں اور پھر انہی احکام کی تفصیل سورة بنی اسرائیل میں ہے۔ اَلاَّ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ج۔یعنی سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ شرک کو حرام ٹھہرایا ہے اور دوسرے نمبر پر والدین کے حقوق میں کوتاہی حرام قرار دی ہے۔ قرآن حکیم میں یہ تیسرا مقام ہے جہاں حقوق اللہ کے فوراً بعد حقوق والدین کا تذکرہ آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ آیت 83 اور سورة النساء آیت 36 میں والدین کے حقوق کا ذکر اللہ کے حقوق کے فوراً بعد کیا گیا ہے۔ وَلاَ تَقْتُلُوْٓا اَوْلاَدَکُمْ مِّنْ اِمْلاَقٍط نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاہُمْ ج وَلاَ تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ ج وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ الاَّ بالْحَقِّ ط بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے ہر انسانی جان کو محترم ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا کسی اصول ‘ حق اور قانون کے تحت ہی انسانی جان کا قتل ہوسکتا ہے۔ قتل عمد کے بدلے میں قتل ‘ قتل مرتد ‘ مسلمان زانی یا زانیہ اگر شادی شدہ ہوں کا قتل ‘ حربی کافر وغیرہ کا قتل۔ یہ انسانی قتل کی چند جائز اور قانونی صورتیں ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

خدائی پابندی کے نام پر لوگ طرح طرح کی رسمی اور ظاہری پابندیاں بنا لیتے ہیں اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انھوں نے خدائی پابندیوں کا حق ادا کردیا۔ مگر خدا انسان سے جن پابندیوں کا اہتمام چاہتا ہے وہ حقیقی پابندیاں ہیں، نہ کہ کسی قسم کے رسمی مظاہر۔

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کو اپنا خدا بنائے۔ اس کے سوا کسی کی بڑائی کا غلبہ اس کے ذہن پر نہ ہو۔ اس کے سوا کسی کو وہ قابل بھروسہ نہ سمجھتا ہو۔اس کے سوا کسی سے وہ امید قائم نہ کرے اس کے سوا کسی سے وہ نہ ڈرے اور نہ اس کے سوا کسی کی شدید محبت میں مبتلا ہو۔

والدین اکثر حالات میں کمزور او رمحتاج ہوتے ہیں اور اولاد طاقت ور۔ ان سے حسن سلوک کا محرک مفاد نہیںہوتا بلکہ صرف حق شناسی ہوتا ہے۔ اس طرح والدین کے حقوق ادا کرنے کا معاملہ آدمی کے ليے اس بات کا سب سے پہلا امتحان بن جاتا ہے کہ اس نے خدا کے دین کو قول کی سطح پر اختیار کیا ہے یا عمل کی سطح پر۔ اگر وہ والدین کی کمزوری کے بجائے ان کے حق کو اہمیت دے، اگر اپنے دوستوں اور اپنی بیوی بچوں کی محبت اس کو والدین سے دور نہ کرے تو گویا اس نے اس بات کا پہلا ثبوت دے دیا کہ اس کا اخلاق اصول پسندی اور حق شناسی کے تابع ہوگا، نہ کہ مفاد اور مصلحت کے تابع۔

انسان اپنے حرص اور ظلم کی وجہ سے خدا کے پیدا كيے ہوئے رزق کو تمام بندوں تک منصفانہ طورپر پہنچنے نہیں دیتا۔ اور جب اس کی وجہ سے قلت کے مصنوعی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ کھانے والوں کو قتل کردو یا پیداہونے والوںكو پیدا نہ ہونے دو۔ اس قسم کی باتیں خدا کے نظام رزق پر بہتان کے ہم معنیٰ ہیں۔

بہت سی برائیاں ایسی ہیں جو اپنی ہیئت میںاتنی فحش ہوتی ہیں کہ ان کی برائی کو جاننے کے ليے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسانی فطرت اور اس کا ضمیر ہی یہ بتانے کے ليے کافی ہے کہ یہ کام انسان کے کرنے کے قابل نهيں۔ ايسي حالت ميں جو شخص فحاشي يا بے حيائي كے كام ميں مبتلا هو وه گويا ثابت كررها هے كه وه اس ابتدائي درجهٔ انسانیت سے بھی محروم ہے جہاں سے کسی انسان کے انسان ہونے کا آغاز ہوتا ہے۔

ہر انسان کی جان محترم ہے۔ کسی انسان کو ہلاک کرنا کسی کے ليے جائز نہیں جب تک خالق کے قانون کے مطابق وہ کوئی ایسا جرم نہ کرے جس میں اس کی جان لینا مخصوص شرائط کے ساتھ مباح ہوگیاہو — یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ عقل سے کام لینے والا ان کی صداقت کو جاننے سے محروم نہیں رہ سکتا۔


Connections

  • Previous: 6_150
  • Next: 6_152
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes