Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:151 Prev 6:149


Arabic

قُلۡ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشۡهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَاۖ فَإِن شَهِدُواْ فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡۚ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ان سے کہو کہ “لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے اِن چیزوں کو حرام کیا ہے” پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا، اور ہرگز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے، اور جو آخرت کے منکر ہیں، اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں


English (Sahih International)

Say, [O Muhammad], “Bring forward your witnesses who will testify that Allah has prohibited this.” And if they testify, do not testify with them. And do not follow the desires of those who deny Our verses and those who do not believe in the Hereafter, while they equate [others] with their Lord


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اگر اللہ کے پیش نظر سب کو نیک بنانا ہی مقصود ہوتا تو آن واحد میں تم سب کو ابوبکر صدیق رض جیسا نیک بنا دیتا ‘ لیکن اس نے دنیا کا یہ معاملہ عمل اور اختیار کے تحت رکھا ہے ‘ اور اس کا مقصد سورة الملک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط آیت 2 اس نے موت وحیات کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ تمہیں آزمائے اور جانچے کہ تم میں سے کون ہے جو نیک عمل اختیار کرتا ہے۔آیت 150 قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا ج۔کیا تمہارے پاس کوئی کتاب یا علمی سند موجود ہے جسے تم اپنے موقف کے حق میں بطور گواہی پیش کرسکو ؟ اگر اس طرح کی کوئی ٹھوس شہادت ہے تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔فَاِنْ شَہِدُوْا فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ ج وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ وَہُمْ بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت بھی ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ کے الفاظ پر ختم ہوئی تھی اور اب یہ آیت بھی وَھُمْ بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ کے الفاظ پر ختم ہورہی ہے۔ یعنی آخرت کے یہ منکراتنا کچھ سننے کے باوجود بھی کس قدر دیدہ دلیری کے ساتھ شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہیں اللہ کے حضور حاضری کا کچھ بھی خوف محسوس نہیں ہو رہا اور جس کو چاہتے ہیں اللہ کے برابر کردیتے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 6:148.


Connections

  • Previous: 6_149
  • Next: 6_151
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes