Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيَحۡلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍۚ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا، وہ اس کے سامنے بھی اُسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا خوب جان لو، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں
English (Sahih International)
On the Day Allah will resurrect them all, and they will swear to Him as they swear to you and think that they are [standing] on something. Unquestionably, it is they who are the liars
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 18{ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَـیَحْلِفُوْنَ لَـہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَـکُمْ } ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جیسے آج تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں“ یعنی یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھانے کے اس حد تک عادی ہوچکے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سامنے بھی اسی طرح جھوٹی قسمیں کھانا شروع ہوجائیں گے کہ ہم ایسے نہیں کہتے تھے اور ہم ویسے نہیں کرتے تھے۔ { وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّـہُمْ عَلٰی شَیْئٍ } ”اور وہ سمجھیں گے کہ وہ کسی بات پر ہیں۔“ اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر بھی وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہمارے اعمال کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت تو ہے۔ آخر ہم مسلمان ہوئے تھے ‘ ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کی اقتدا میں نمازیں پڑھی تھیں ‘ روزے رکھے تھے ‘ سب مسلمانوں کے ساتھ مل کر مہمات میں حصہ لیتے رہے تھے۔ اس طرح ہم دنیا سے کچھ نہ کچھ نیک اعمال تو لے کر آئے ہی ہیں۔ { اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ۔ } ”آگاہ ہو جائو کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 58:17.