Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 58:18 Prev 58:16


Arabic

لَّن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ سے بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے


English (Sahih International)

Never will their wealth or their children avail them against Allah at all. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 17{ لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا } ”ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے ان کے اموال اور نہ ہی ان کی اولادیں اللہ سے بچانے کے لیے۔“ { اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ۔ } ”یہ آگ والے ہیں ‘ اسی میں یہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔“ مقامِ عبرت ہے کہ یہ ”نوید“ ان لوگوں کو سنائی جا رہی ہے جو بظاہر حضور ﷺ کے ماننے والے تھے ‘ آپ ﷺ کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے تھے ‘ اسلام کا دم بھرتے تھے ‘ خود کو مسلمان کہتے تھے اور زبانوں سے گواہی دیتے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ سورة المنافقون کی پہلی آیت میں ان کی اس ”شہادت“ کا خصوصی طور پر ذکر کر کے ان کے جھوٹے ہونے پر مہر ثبت کی گئی ہے : { اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ 7 وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَــکٰذِبُوْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں ‘ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 17 to 21.

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔

منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔


Connections

  • Previous: 58_16
  • Next: 58_18
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes